یوکرینی طیارے پر حملے کیخلاف تہران میں مظاہرے

0

یوکرین کا بوئنگ 737 طیارہ 8 جنوری کو ایران کے امام خمینی ائیرپورٹ سے اڑان بھرنے کے کچھ دیر بعد تباہ ہو گیا تھا جس میں عملے کے افراد سمیت 176 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ بعدازاں ایران نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ طیارے کو غلطی سے نشانہ بنایا گیا جس پر حادثے میں ہلاک ہونے والے تمام افراد کے لواحقین سے معذرت کی گئی۔ ایران کی جانب سے یوکرین کے مسافر طیارے پر حملے کیخلاف تہران میں مظاہرین سراپا احتجاج ہیں اور سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

تہران کی عامر کبیر یونیورسٹی کے سامنے مظاہرین نے حادثے کا شکار ہونے والوں کی یاد میں شمعیں روشن کیں۔ احتجاج کرتے ہوئے مظاہرین نے ایرانی حکومت سے سوال کیا کہ جب ایران میں پہلے سے ہی کشیدہ صورت حال تھی تو طیارے کو پرواز کی اجازت ہی کیوں دی گئی؟ مظاہرین نے عراق میں امریکی حملے میں جاں بحق ہونے والے القدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی کے خلاف بھی نعرے بازی کی اور سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای سے مستعفی ہونے کا مطالبہ بھی کیا۔

ادھر امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی مظاہرین کی مکمل حمایت کرتے ہوئے انہیں فارسی میں پیغام دیا کہ مظاہروں کا بغورجائزہ لے رہے ہیں، ہم بہادر ایرانی عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ٹرمپ نے ایرانی حکومت کو خبردار کیا کہ پُرامن مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن اور انٹر نیٹ بند نہ کیا جائے کیونکہ دنیا دیکھ رہی ہے اس لیے انسانی حقوق کی تنظیموں کو حقائق جاننے دیئے جائیں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: