جہلم میں ایک اور بچی درندگی کی بھینٹ چڑھ گئی

جہلم میں ایک اور بچی درندگی کی بھینٹ چڑھ گئی،،،وین ڈرائیور اور کنڈیکٹر نے چلتی گاڑی میں لڑکی کو مبینہ زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا،،پولیس نے والدہ کی مدعیت میں مقدمہ درج کرکےملزمان کو گرفتار کرلیا

پولیس کے مطابق عالمہ کا کورس کرنے والی 15 سالہ طالبہ 30 جنوری کو تلہ گنگ سے اپنے گھر کھاریاں جانے کے لیے وین میں بیٹھی تھی، دینہ کےسٹاپ پر دیگر مسافروں کے اترنے کے بعد طالبہ وین میں تنہا رہ گئی تھی۔ وین دینہ سے نکلی تو پہلے کنڈیکٹر اور اس کے بعد ڈرائیور نے طالبہ کو زیادتی کا نشانہ بنایا اور نیم بیہوشی کی حالت میں سڑک پر پھینک کر فرار ہوگئے۔

پولیس کے مطابق لڑکی کی والدہ کی مدعیت میں وین ڈرائیوراورکنڈیکٹر کے خلاف مقدمہ درج کرکے24 گھنٹے میں ملزمان کو میانوالی سے گرفتار کرلیا گیا،ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرہسپتال جہلم میں متاثرہ لڑکی کی ابتدائی میڈیکل رپورٹ میں زیادتی کی تصدیق ہوگئی، متاثرہ لڑکی کی میڈیکل رپورٹ آنے کے بعد مزید تفتیش کی جائے گی اور واقعے کے تمام کردار وحقائق ایک دو دن میں بے نقاب ہوجائیں گے۔ طالبہ کے اہل خانہ نے ملزمان کو کڑی سزا دینے کا مطالبہ بھی کردیا

دوسری طرف وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزادر نے بھی واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی پی او سے رپورٹ طلب کرلی،وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ متاثرہ طالبہ کو ہر قیمت پر انصاف فراہم کیاجائے۔

You might also like

Comments are closed.