امان اللہ ۔۔۔۔۔فی امان اللہ

0

کلچرل جرنلسٹس فاؤنڈیشن آف پاکستان اور لاہور آرٹس کونسل کے زیر اہتمام نامور کامیڈین امان اللہ خان کی یاد میں ایک تعزیتی ریفرنس منعقد کیا گیا۔صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان اور ایگزیکٹوڈائریکٹر الحمرا اطہر علی خان نے خصوصی شرکت کی۔نامور کامیڈین سہیل احمد، خالد عباس ڈار،پرویز کلیم و دیگرنے امان اللہ کی فنکارانہ صلاحیتوں کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں زبردست خراج عقیدت پیش کیا، امان اللہ خان کے ساتھ گزارے دنوں کی یادوں کو تازہ کیا۔صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان نے تقریب سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ امان اللہ خان اپنے شعبے کے ہیرو،بے حد مخلص انسان تھے،عوامی خدمت شیوہ ہے،حکومت فن اور فنکار کی فلاح و بہبود کے لئے ٹھو س اقدامات اٹھا رہی ہے۔ایگزیکٹوڈائریکٹر لاہورآرٹس کونسل الحمراء اطہر علی خان نے اظہا ر خیال کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کامیڈی آنے والے فنکاروں کیلئے ایک اکیڈمی کادرجہ رکھتی ہے، امان اللہ خان ایک رحجان ساز فنکار تھے، جنہوں نے سٹیج میں نئی روایات متعارف کروائیں،انکا کیرئیر مسلسل جدوجہد سے عبارت ہے،جس کی وجہ سے انہیں کنگ آف کامیڈی کا خطاب دیا گیا۔انھوں نے ہمیشہ اعلی معاشرتی اقدار کا دامن تھامے رکھا،ان کی برجستہ اور معیاری کامیڈی میں سماجی اصلاح کا پہلو ملتاہے۔تقریب کے شرکاء نے کہا کہ امان اللہ خان نے ہزاروں سٹیج ڈراموں کو سپرہٹ کرانے میں اہم کردارادا کیا،دنیا میں پاکستانی تھیٹر کو منفرد مقام دلایا اور ملک وقوم کا نام روشن کیا۔شرکاء نے کہا کہ تھیٹر ڈراموں کے علاوہ انھوں نے ٹی وی اور فلم کے شعبے میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا،موجودہ دور کے تمام کامیڈین ان کو اپنا استاد مانتے ہیں۔وہ واحد کامیڈین تھے جن کے جملے سن کر لوگ لوٹ پوٹ ہو جایا کر تے تھے،ان کے کام کو رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا، ان کے نقش قدم پر چل کر درجنوں فنکاروں نے شہرت کی بلندیوں کو چھوا،انھوں نے مزید کہا کہ وہ ایک خوش مزاج انسان تھے،اپنے فن کو جونیئر میں منتقل کرنے میں کبھی عار محسوس نہ کی اور ہمیشہ مکمل تعاون کیا۔انھوں نے کہا کہ ان کی وفات سے طنزومزاح کی دنیا میں جوخلا پیدا ہوا ہے اسے مدتوں پرُ نہیں کیا جاسکے گا۔امان اللہ خان مزاح کا ایک ایسا سمندر تھا جس سے آنے والے فنکار فیض یاب ہوتے رہیں گے۔تقریب میں نامور کامیڈین امان اللہ کے بلند درجات کے لئے دعا کی گئی۔
ذوالفقارزلفی،اداکار خالد بٹ، حامد رنگیلا،فرخ شاہ، شاہد خان،پرویز خان،شیبا بٹ،میگھا ، حبیب رحمان، نور الحسن،پرویز رضا،جاوید کوڈو،منیر راج،عبداللہ چلی،ناصر نقوی،طاہر بخاری، ٹھاکر لاہوری،سیف اللہ سپرا،شجر الدین،وقار اشرف،اشفاق حسین،حسن عباس زیدی،نوین علی،علی عابدی،قاسم ارشد،معین زبیر سمیت امان اللہ کے بچے شامل تھے۔ شرکاءنے امان اللہ کے صاحبزادے امانت علی اور دیگر بچوں سے ان کے والد کے انتقال پر گہرے افسوس کا اظہار کیا۔اس موقع پر امان اللہ کے ایصال ثواب کے لئے فاتحہ خوانی کی گئی۔اس موقع پر خالد عباس ڈار، سہیل احمد اور سی جے ایف پی کی جانب سے ایک قرار داد پیش کی گئی کہ جس میں حکومت سے اپیل کی گئی کہ امان اللہ خان کی تھیٹر کے لئے بڑی خدمات ہیں ۔اس لئے ان کے نام پر ”اوپن ائیر تھیٹر باغ جناح کا نام امان اللہ تھیٹر “ رکھ دیا جائے۔ہال میں موجود فنکاروں اور شرکاءنے اس قرار داد کی حمایت کی۔
ذوالفقارزلفی،خالد بٹ، شاہد خان،شیبا بٹ،میگھا ،نور الحسن،پرویز رضا،جاوید کوڈو،منیر راج،عبداللہ چلی اور ناصر نقوی نے بھی خطاب کیا ۔میزبانی کے فرائض شکیل زاہد نے انجام دئیے۔شوبز رپورٹر نوین علی کو سی جے ایف پی کی جانب سے بہترین رپورٹنگ پر تعریفی سند دی گئی۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: