کرونا وائرس سے بچاؤ کی ابھی تک کوئی ویکسین موجود نہیں ہے، ڈبلیو ایچ او

0

جان لیوا کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیےاُمید کی کرن نظر آنے لگی،،، دنیا بھر کے سائنسدان ویکسین کی تیاری کے لیے سر توڑ کوشش کررہے،، تاہم امریکہ، اسرائیل، جرمنی اور آسٹریلیا کچھ حد تک ویکسین تیار کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں ،،تاہم ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ کامیاب تجربے کے بعد بھی نئی ویکسین کو عوامی سطح پر پہنچانے میں 18 ماہ لگ سکتے ہیں۔

دنیا بھر میں تیزی سے پھیلتے ہلاکت خیز کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے امریکامیں انسان پر اینٹی کورونا وائرس ویکسین کا تجربہ کیا گیا ہے۔امریکی شہر سیٹل کی کیسر پرمانینتے ریسرچ میں پہلی بار خاتون پر انسداد کوروناوائرس ویکسین کا تجربہ کیا گیا۔ مجموعی طور پر45 افراد کو دی جائےگی۔ امریکی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کا کہنا ہے کامیاب تجربے کے بعد ویکسین کی بڑےپیمانےپرتیاری میں ڈیڑھ سال لگ سکتاہے۔

دوسری جانب جرمنی اور امریکا کی حکومتیں نئے نوول کورونا وائرس کے خلاف بنائی جانے والی ایک ویکسین پرایک دوسرے کے مدمقابل آگئیں،جرمنی کی دوا ساز کمپنی ‘کیور ویک، کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے ایک ویکسین تیار کرنے کی کوشش میں ہے۔ ‘کیور ویک ایک ایسا ٹیکہ بنانے پر کام کر رہی ہے جو پوری دنیا کے لوگوں کو کورونا سے محفوظ رکھ سکے اس ویکسین پر کام کرنےوالےجرمن سائنسدانوں کو امریکہ کی جانب سے خطیرمعاوضے کی پیشکش کی گئی جسے جرمن سائنسدانوں نے ٹھکرا دیا۔ جرمنی کا کہنا ہے کہ پوری دنیا کے لیے ایک ویکسین تیار کرنا چاہتے ہیں کسی ایک ملک کے لیے نہیں۔

اسرائیلی سائنسدان کورونا وائرس کی ویکسین کی تیاری کے قریب پہنچ گئے۔ اسرائیل کے بائیولوجیکل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کا توڑ ڈھونڈ لیا گیا ہے، صرف پری کلینکل اور کلینکل ٹرائل کے لیے کچھ وقت درکار ہے۔جلد ویکسین تیار کرنے کا باضابطہ اعلان کیاجائے گا۔

اسرائیل کے بعد آسٹریلوی سائنس دانوں نے بھی کورونا ویکسین تیار کرنے کا بڑا دعویٰ کر دیا۔ آسٹریلوی سائنس دانوں کا کہنا ہے ایس اسپائک نامی ویکسین کوچوہوں پر آزمایا گیا ہے ۔اب اگلے مرحلے میں اسے انسانوں پر آزمایا جائے گا۔ تاہم کامیاب تجربے پر بڑے پیمانے پر اس کی تیاری ایک بڑا چیلنج ہو گا۔ دوسری جانب ڈبلیو ایچ او نے کہا ہے کہ ابھی تک کوئی ویکسین موجود نہیں ہے اور کسی بھی نئی ویکسین کو عوامی سطح پر دستیاب ہونے میں کم از کم 18 ماہ لگ سکتے ہیں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: