کرونا کے خلاف روبوٹس کا استعمال

0

دنیا کے مختلف ممالک نے کرونا جیسے موذی مرض سے نمٹنے کیلئے روبوٹس کی مدد لینا شروع کردی،،، طبی عملے کی مدد ،خودکار ٹیسٹ یا مریضوں کی تیمارداری کرنا ہو،، جدیدروبوٹس ہرکام میں ماہر ہیں

عالمی سطح پر کرونا وائرس کی وبا سے نمٹنے کے لیے اب روبوٹس کے استعمال کو ترجیح دی جا رہی ہے تاکہ ڈاکٹرز یا دیگر متعلقہ عملے کو بیماری منتقل ہونے سے بچایا جا سکے۔

چین کے شہر ووہان میں ایک عارضی ہسپتال میں کرونا سے متاثر مریضوں کی دیکھ بھال کے لیے روبوٹس کی ٹیم پر انحصار کیا گیا،، سمارٹ فیلڈ ہسپتال میں داخل مریضوں کو کھانا دینا، بخار چیک کرنا اور ضروری بات چیت کرنا روبوٹس کی ذمہ داری تھی۔

اس کے علاوہ چین نے کرونا وائرس سے بچاؤ کیلئے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ایک ‘روبوٹ آرمی’ تیار کی ہے اور انہوں نے بیجنگ، شنگھائی اور شی ژنگ شہرمیں کام کا آغاز کر دیا ہے۔ 5 جی انٹرنیٹ کے ذریعے ان روبوٹس سے شہروں میں اینٹی کرونا وائرس سپرے کیا جارہا ہے تاکہ لوگوں کو وائرس سے محفوظ رکھا جاسکے ۔

ادھر سنگاپور میں بھی کرونا وائرس سے نمٹنے والا روبوٹ تیار کرلیا گیا ہے۔ کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے سنگاپور کے محققین نے ایسا روبوٹ تیار کیا ہے جو انسانوں کی طرح حرکت کرسکتا ہے۔ اس روبوٹ کی تیاری کا مقصد صفائی ستھرائی میں مصروف عملے کا بوجھ ہلکا کرنا ہے۔

دوسری جانب ملائیشیا کے سائنس دانوں نے "میڈی بوٹ” نامی ایک ایسا روبوٹ ایجاد کیا ہے جو ہسپتالوں کے وارڈ میں زیر علاج کرونا وائرس کے مریضوں کی تیمار داری کرے گا اور ان روبوٹ کی مدد سے ڈاکٹرز سمیت ہسپتال کے تمام عملے کو انفیکشن کے خطرے سے دور رہنے میں بھی مدد ملے گی۔ اس سے وارڈز میں فرائض انجام دینے والی نرسوں، ڈاکٹروں اور عملے کے درمیان سوشل ڈسٹینسنگ برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔

اسرائیل کی انوویشن اتھارٹی کرونا وائرس کے خودکار ٹیسٹ کرنیوالا روبوٹ تیار کرنے کا دعویٰ کیا ہے ۔اسرائیل کو اس منصوبے میں امریکی کمپنیوں کا اشتراک بھی حاصل تھا ۔ یہ روبوٹ جدید بازؤں کی مدد سے ٹیسٹ لیتا ہے جبکہ یہ روبوٹ کچھ ہی عرصے میں اسرائیل کے مقامی اسپتال میں کام کرنا شروع کر دے گا۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: