پنجاب حکومت نے ہوم آئیسولیشن کیلئے قواعد و ضوابط جاری کر دیئے

0

پنجاب حکومت نے ہوم آئیسولیشن کیلئے قواعد و ضوابط جاری کر دیئے،گھر کا جائزہ لینے کے بعد گھر میں آئسولیٹ ہونے کی اجازت ملے گی،،،گھروں میں آئسولیٹ مریضوں کی چیک لسٹ بنائی جائے گی،،ہوم قرنطینہ کیلئے خصوصی ہوم آئیسولیشن کمیٹیاں بھی بنیں گی۔

پنجاب حکومت نے کرونا مریضوں کو گھر میں آئسولیٹ کرنے کا مراسلہ جاری کردیا،،محکمہ صحت نے ایس او پیز کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا،جس کے مطابق ہوم قرنطینہ کیلئے خصوصی ہوم آئیسولیشن کمیٹیاں بنیں گی،متعلقہ ضلع کا ڈپٹی کمشنر ہوم آئیسولیشن کمیٹی کے اراکین کو نامزد کرے گا،ضلعی ہوم آئیسولیشن کمیٹی کی سربراہی اسسٹنٹ کمشنر کرے گا۔کمیٹی میں محکمہ صحت اور دیگر متعلقہ محکموں کے اہلکار شامل ہوں گے۔

شہری اور دیہی یونین کونسل کی سطح پر سب کمیٹیاں بھی تشکیل دی جائیں گی،کمیٹی ہوم آئیسولیشن کیلئے گھروں کے سائز اور اہلخانہ کی تعداد کی جانچ کے بعد اجازت دے گی جس مریض میں کرونا کی ہلکی علامات ہوں گی وہی ہوم قرنطینہ کا اہل ہوگا۔

کرونا وائرس کے باعث اگر مریض کی حالت خراب ہو تو اسے ہوم قرنطینہ کی اجازت نہیں ہوگی،اجازت سے پہلے کرونا مریض اور دیگر اہلخانہ کی تعلیم،کرونا کے بارے میں عام آگہی،ہوم آئیسولیشن کی بنیادی ضروریات کے بارے علم کو بھی پرکھا جائے گا،مریض روزانہ اپنی صحت کے متعلق اپڈیٹس محکمہ صحت کو بھجوانے کا پابند ہوگا۔

محکمہ صحت کی ہدایت کے مطابق مریض طے کردہ طریقہ کار کے تحت اپنے ٹیسٹ بھی کرواتا رہے گا۔کرونا کے مریض کو ہوم آئیسولیشن کے دوران ہر دس دن بعد اپنا ٹیسٹ کروانا ہوگا،دو بار ٹیسٹ رپورٹ منفی آنے پر مریض ہوم آئیسولیشن ختم کر سکے گا، دو بار منفی ٹیسٹ کرانے میں درمیانی مدت 24 گھنٹے ہونی چاہیے۔

ہوم آئیسولیشن کے دوران اگر دوسری بار بھی کرونا ٹیسٹ مثبت آئے تو دوبارہ ٹیسٹ اگلے پانچ دن بعد کروانا ہوگا،ٹیسٹ کیلئے محکمہ صحت کا عملہ گھر سے سیمپل لے گا،مریض کو حکومت سے منظور شدہ پرائیویٹ لیبارٹری سے بھی ٹیسٹ کرانے کی اجازت ہو گی،جن علاقوں میں ٹیسٹنگ سہولت میسر نہیں وہاں مریض کرونا کی علامات ختم ہونے کے بعد بھی مزید دو ہفتے کیلئے خود کو آئیسولیٹ رکھے گا۔

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: