ٹیکسلا میں لڑکیوں کی آپس میں شادی کا معاملہ

0

لاہورہائیکورٹ راولپنڈی بنچ نے جنس کی تبدیلی کے بعد لڑکا بننے کادعویدار آکاش علی کامیڈیکل ٹیسٹ کرنے کیلئے 4 رکنی میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کاحکم دیدیا

ٹیکسلا کی رہائشی استانی نےلڑکے کے نام پر جعلی شناختی کارڈ بنوا کراپنی ہی طالبہ سے شادی کرلی ،، معاملہ کھلنے پر لڑکی کے والد نے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا، جس پر عدالت نے دونوں لڑکیوں اور ایس ایچ او ٹیکسلا کو طلب کررکھا تھا، پیشی کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے۔

لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ کے جج جسٹس صداقت علی خان نے کیس کی سماعت کی۔ لڑکی سے لڑکا بننے والے آکاش علی کا کہنا ہے کہ میں مکمل مرد ہوں اور شادی شدہ زندگی گزار رہا ہوں جبکہ درخواست گزار کی بیٹی نیہا کا مؤقف بھی کچھ ایسا ہی تھا،اس نےکہا کہ میں اپنی شادی شدہ زندگی سے خوش ہوں ۔

عدالت نے آکاش علی عرف عاصمہ بی بی کے جنسی میڈیکل ٹیسٹ کرانےکا حکم دیتے ہوئے ایم ایس ڈی ایچ کیو راولپنڈی کو 4 رکنی میڈیکل بورڈ بنائے کی ہدایت کی۔ عدالت نے کیس کی سماعت 20 جولائی تک ملتوی کرتے ہوئے کہا کہ اگلی سماعت پر جنسی تشخیص کا ٹیسٹ کرا کر لڑکا بننے والی لڑکی کو عدالت میں پیش کیا جائے۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: