اداکار لہری کو مداحوں سے بچھڑے 8 برس بیت گئے

0

خوبصورت انداز اور برجستہ جملوں کے لیے مشہور معروف مزاحیہ اداکار لہری کو مداحوں سے بچھڑے 8 برس بیت گئے۔انہوں نے 220 سے زائد فلموں میں کام کیا،صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سے بھی نوازا گیا

منفرد انداز اورشوخ جملوں کے لیے مشہور پاکستان کےعظیم مزاحیہ فنکارسفیر اللہ صدیقی المعروف لہری 2 جنوری 1929 کو بھارت کے شہر کانپور میں پیداہوئے۔ تقسیم بھارت کے بعد وہ اپنے اہل خانہ کے ہمراہ پاکستان آگئے اورکراچی میں رہائش اختیارکی ۔لہری نے فن کی دنیا میں پہلا قدم اسلامیہ کالج میں "مریض عشق ” نامی ایک ڈرامے میں پرفارمنس دے کر کیا جس میں انہیں بے انتہاسراہا گیا۔

لہری نے 1956 ء میں فلم ‘انوکھی ‘سے اپنے فلمی کیرئرکا آغاز بطور ہیرو کیا ۔انہو ں نے فلم دامن ،پیغام ،کنیز ،میں وہ نہیں،نئی لیلیٰ نیا جنوں،انجمن،آج اور کل، نیا انداز،اور بیوی ہو تو ایسی،رم جھم، چھوٹی بہن،بالم،پھول میرے گلشن کا اور پرنس میں اپنی لاجواب مزاحیہ اداکاری سے ان مٹ نقوش چھوڑے۔

لہری نے 220 سے زائد فلموں میں کام کیا۔ وہ ٹی وی اورتھیٹر سے بھی وابستہ رہے ۔انہیں مسلسل کئی برس فلم ٹی وی اور تھیٹرمیں شاندار کارکردگی کی بدولت کئی ایوارڈز دیئے گئے،جن میں 13 نگار ایوارڈز شامل ہیں جبکہ 1996ء میں انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سے بھی نوازا گیا۔ لہری13 ستمبر 2012ء کو 83 برس کی عمر میں خالق حقیقی سے جاملے

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: