سپریم کورٹ میں ملکی تاریخ کا انوکھا مقدمہ

باپ کی بے اعتنائی پر بیٹی سپریم کورٹ پہنچ گئی

عمر بھر مدد نہ کی،باپ کا نام کیوں لکھوں،تطہیر
ولدیت کے خانے سے باپ کا نام ختم کرنے کی درخواست کر دی
سپریم کورٹ میں ملکی تاریخ کا انوکھا مقدمہ،عمر بھر مدد نہ کی،باپ کا نام کیوں لکھوں،18 سالہ تطہیر نے انصاف کے لے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھا دیا،ولدیت کے خانے سے باپ کا نام ختم کرنے کی درخواست کر دی تطہیر فاطمہ بنت پاکستان بنام وزارت قانون،ملکی عدالتی تاریخ میں انوکھا کیس،درخواست گزار 18 سالہ تطہیر فاطمہ نے اپنے شناختی کارڈ اور تعلیمی ریکارڈ پر ولدیت کے خانے سے باپ کا نام ہٹانے کی استدعا کر دی،سپریم کورٹ میں دائر درخواست پر مؤقف اپنایا کہ والد نے پیدائش سے لیکر آج تک کوئی مدد نہیں کی،پھر ولدیت کے خانے میں خانہ پوری کیوں کروں
دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ولدیت کے خانے سے بچی کے باپ کا نام ختم نہیں کیا جا سکتا،والد کو اپنے فرائض ادا کرنے ہوں گے،اگر والد خرچہ ادا نہیں کر رہا تو باقاعدہ درخواست دیں،
عدالت نے لڑکی کو انصاف دلانے کی یقین دہانی کراتے ہوئے نادرا کو حکم دیا کہ تطہیر کے والد کو ایک ہفتے میں تلاش کریں۔اس کے بعد والد کو طلبی کا نوٹس جاری کیا جائے گا

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.