نامور ادیب اشفاق احمد کی 14ویں برسی

نامور ادیب اشفاق احمد کی 14ویں برسی

22اگست1925ء کو ہندوستان کے گاؤں میں پیدا ہوئے اشفاق احمد نے اپنے افسانے ”گڈریا” سے شہرت حاصل کی مایا ناز قلمکار 7 ستمبر 2004 کو جہان فانی سے کوچ کرگئے اپنے میٹھے الفاظ سے لوگوں کی اصلاح کرنے والے دانشور، ادیب، ڈرامہ نویس، تجزیہ نگار، اشفاق احمد کے مداح ان کی چودہویں برسی منارہے ہیں
اپنی تصانیف سے لاکھوں دلوں میں گھر کرنے والے شاعر22اگست1925ء کو ہندوستان کے شہر ہوشیار پور کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں پیدا ہوئے۔ گورنمنٹ کالج لاہور سے ایم اے اردو کیا اور اٹلی کی روم یونیورسٹی سے اطالوی اور فرانس کی نوبلے گرے یونیورسٹی سے فرانسیسی زبان کا ڈپلومہ حاصل کیا اور نیویارک یونیورسٹی سے براڈ کاسٹنگ کی خصوصی تربیت حاصل کی۔
اس عظیم سخن طراز کا شمار اُن ادیبوں میں ہوتا ہے جوقیام پاکستان کے بعد ادبی افق پر نمایاں ہوئے۔اردو ادب میں اشفاق احمد جیسی کہانی لکھنے کا فن کسی دوسرے شخص کو حاصل نہیں ہو سکا۔یہی وجہ ہے کہ جب1953میں انہوں نے افسانہ ’’گڈریا‘‘ لکھا توشہرت کی بلندیوں تک پہنچ گئے۔ ’’ایک محبت سو افسانے‘‘ اور ’’اجلے پھول‘‘ ان کے ابتدائی افسانے تھے۔
ان کے ڈرامے ’’توتا کہانی‘‘ اور ’’من چلے کا سودا‘‘میں تصوف کے رجحان کی وجہ سے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا گیا ، مگریہ صوفی منش بابا کوئی پروا کئے بغیر قلم کو اپنے اشارہ ابرو پر چلاتا رہا۔7ستمبر 2004ء کو جب یہ قلمکار اس دنیا سے رخصت ہوا تو قوم کو ایک ذات سے نہیں ایک انجمن سے محروم کر گیا۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.