’’میرا ٹوائلٹ استعمال کیوں کیا‘‘ہیڈمسٹریس کاطالبہ پر بہیمانہ تشدد

بچی کو حساس اعضا پر 10 ٹانکے لگے

واقعہ ہڑپہ کے گاؤں میں پیش آیا،بچی کو حساس اعضا پر 10 ٹانکے لگے،پولیس مقدمہ سے انکاری
فرخندہ بتول کی بچی کے والدین کو دھمکیاں،ہیڈمسٹریس کیخلاف کارروائی کی جائے،والدہ کا مطالبہ
ساہیوال میں سرکاری سکول کی ہیڈ مسٹریس نے مبینہ طور پر ایمرجنسی میں اپنا ٹوائلٹ استعمال کرنے پر دوم جماعت کی طالبہ کو بری طرح تشدد کا نشانہ بنا ڈالا، یہ انسانیت سوز واقعہ ہڑپہ شہر کے نزدیک گاؤں 2/10 میں واقع گورنمنٹ گرلز مڈل سکول میں پیش آیا۔شدید تشدد کے باعث ارم شہزادی کی حالت بگڑ گئی اور اسے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال لایا گیا، بچی کو حساس اعضا پر 10 ٹانکے آئے جبکہ گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر زاہد نے بھی بچی کے حساس اعضاکے بری طرح زخمی ہونے کی تصدیق کی۔بچی کے اہل خانہ کا کہنا تھا کہ جب انہوں نے مقدمے کے اندراج کیلئے درخواست دی تو مبینہ طور پر ہڑپہ پولیس نے نہ صرف انکار کیا بلکہ بچی کے والد کو ہیڈ مسٹریس فرخندہ بتول کیخلاف کارروائی کرنے سے منع بھی کیا۔ والدین نے دعویٰ کیا ہے کہ پولیس نے انہیں قانونی طور پر طبی دستاویز بھی فراہم کرنے سے انکار کردیا بعد ازاں بچی کے والدین نے ہڑپہ مجسٹریٹ تجمل سے طبی دستاویز حاصل کرلیں۔بچی کی والدہ سکینہ بی بی نے بتایا کہ ڈی ایچ کیو ٹیچنگ ہسپتال کے میڈیکل سپریٹنڈنٹ نے ان کی بچی کا طبی معائنہ کرنے کے بعد اس بات کی تصدیق کی ہے کہ بچی کے حساس اعضا پر شدید نوعیت کے زخم آئے ہیں۔ارم شہزادی کے والدین نے چیف ایگزیکٹو آفیسرایجوکیشن سے واقعے کی محکمہ جاتی تفتیش کرنے اور ہیڈ مسٹریس کیخلاف مجرمانہ فعل کا مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا۔

You might also like

Comments are closed.