10 سال میں چھوٹی انڈسٹری میں کوئی ترقی نہیں ہوئی چودھری پرویزالٰہی

10 سال میں چھوٹی انڈسٹری میں کوئی ترقی نہیں ہوئی چودھری پرویزالٰہی

مسائل میں اضافہ سے برآمدات متاثر ہوئیں اور بیروزگاری بڑھ گئی، پاکستان الیکٹرک فین مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کی تقریب حلف برداری میں خطاب
اسپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویزالٰہی نے کہا ہے کہ پچھلے دس سال کے دوران چھوٹی انڈسٹریز میں کوئی بہتری نہیں آئی، فین، پاٹری، سپورٹس، سرجیکل اور دیگر چھوٹی انڈسٹری کے مسائل میں اضافہ کے باعث ان کی برآمدات بری طرح متاثر ہوئیں، پیداوار کم ہوئی اور بیروزگاری میں بھی اضافہ ہوا۔ وہ پاکستان الیکٹرک فین مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کی حلف برداری تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر سابق صوبائی وزیر میاں عمران مسعود بھی ان کے ہمراہ تھے۔ نومنتخب عہدیداروں میں چیئرمین غیاث الدین پال، سینئر وائس چیئرمین وقاص انور، وائس چیئرمین راحیل ظفر، اظہر اسلم، بلال اسحاق اعوان، محمد فاروق، داؤد جہانگیر راٹھور، ریاض بٹ اور کوکب شہزاد شامل ہیں جبکہ شیخ خاوررفیق، حاجی محمد الیاس، میاں محمد اعجاز آف جی ایف سی فین، ملک محمد اسحاق اعوان، عامر نعمان صدر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری گجرات، چیئر مین ایف ڈی آئی ملک اظہار احمد اعوان، چودھری علی عثمان، قیوم نظر، ڈاکٹر امین گل، انصر محمود گھمن، اشفاق رضی صدر فاؤنڈر گروپ گجرات، میاں سلیم اللہ آف پاک فین ، چودھری راشد آف ترنم فین اور دیگر رہنما بھی تقریب میں شریک تھے۔ چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ فین انڈسٹری ہو یا کوئی دوسری صنعت ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرتی ہیں اس سے ایکسپورٹس بڑھتی ہیں اور ملازمتیں بھی پیدا ہوتی ہیں، میری وزارتِ اعلیٰ کے دور میں ہم نے لاہور میں انڈسٹریل اسٹیٹ کے علاوہ فیصل آباد میں پاکستان کی سب سے بڑی انڈسٹریل اسٹیٹ، گارمنٹس سٹی بنانے کے علاہ سمال انڈسٹریل اسٹیٹس کو اپ گریڈ کیا، سمال انڈسٹریز کو فروغ دیا، ہر سال دس لاکھ ملازمتیں پیدا کر رہے تھے اس میں بڑا حصہ پرائیویٹ سیکٹر کا تھا، ڈویلپمنٹ بہت تھی، سڑکیں بن رہی تھیں، ٹھیکیدار کم پڑنے پر این ایل سی کو پارٹنر بنایا جس نے سکولوں کو بھی ٹھیک کیا۔ انہوں ے کہا کہ ہم نے ہر سیکٹر پر بہت توجہ جس سے ملک آگے بڑھا، پچھلے دس سال میں شور تو بہت مچا لیکن انڈسٹری سیکٹر میں ہوا کچھ نہیں، ہمارے وژن 2020 میں شارٹ ٹرم، مڈ ٹرم اور لانگ ٹرم پراجیکٹس شامل تھے، چھوٹی انڈسٹری کے حوالے سے ہم سیالکوٹ۔ گجرات۔ لاہور موٹروے اور سویڈن و جرمنی کے تعاون سے ٹیکنیکل یونیورسٹیاں بنا رہے تھے لیکن یہ یونیورسٹیاں بھارت منتقل ہو گئیں، سابق چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر عطاء الرحمن سے ملاقات میں اس پراجیکٹ کا بھی ذکر ہوا اور میں نے ان سے کہا کہ اب گجرات میں ایک ٹیکنیکل یونیورسٹی بنوا دیں تاکہ مقامی انڈسٹری مزید پھلے پھولے اور اس میں ویلیو ایڈیشن ہو۔ انہوں نے کہا کہ جرمن یونیورسٹی پر ہم نے کام شروع کر دیا ہے، ہماری قائم کردہ گجرات یونیورسٹی میں 18 ہزار بچے بچیاں تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کاموں میں ٹائم تو لگتا ہے، ہم نیک نیتی سے ایسے کام کرتے ہیں جس سے آئندہ نسلوں کو بھی اس کا فائدہ ہوتا ہے، انشاء اللہ وزیر آباد کارڈیالوجی ہسپتال بھی جلد شروع ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ انشاء اللہ فین انڈسٹری کے مسائل حل کریں گے اور وفاقی وزیر صنعت سے ایک وفد کی ملاقات کرائی جائے گی تاکہ گجرات، گوجرانوالہ، سیالکوٹ اور وزیر آباد انڈسٹری کے مسائل حل ہوں۔

You might also like

Comments are closed.