نامور سرائیکی شاعر شاکر شجاع آبادی کے اعزاز میں لاہور پریس کلب میں تقریب

پریس کلب میں نامور سرائیکی شاعر شاکر شجا ع آبادی کے اعزاز میں تقریب پذیرائی کا انعقاد

لاہور پریس کلب لٹریری کمیٹی کے زیراہتمام نامور سرائیکی شاعر شاکرشجاع آبادی کے اعزاز میں تقریب پذیرائی پریس کلب کے نثار عثمانی آڈیٹوریم میں منعقد ہوئی جس میں علمی و ادبی شخصیات اور سینئر صحافیوں نے شرکت کی۔تقریب کے مہمان خصوصی صوبائی وزیرخزانہ مخدوم ہاشم جواں بخت تھے ۔ اور سینئر صحافی میاں حبیب نے خصوصی شرکت کی۔ تلاوت کلام پاک کی سعادت پروفیسر ڈاکٹر صغیر احمد صغیر نے حاصل کی۔نقیب محفل فاروق شہزاد نے نعتیہ اشعار پیش کیے اور شاکرشجاع آبادی کا مکمل تعارف پیش کیا۔ ظہور احمد دھریجہ،میاں اورنگزیب رامیش اور ڈاکٹر صغیر احمد صغیر نے شاکر شجاع آبادی کی شخصیت اور شاعری پر مقالات پیش کیے۔ صدر پریس کلب اعظم چوہدری نے کہا کہ شاکر شجاع آدی نے اپنی شاعری میں سرائیکی وسیب کی محرومیوں،عوام کے دکھ درد،سماجی مسائل اور ظلم و ناانصافی کا کھل کر اظہار کیا ہے اور طبقاتی نظام پر گہری چوٹ لگائی ہے۔ ان کے تازہ کلام میں تصوف کا رنگ نمایاں ہے۔خواجہ غلام فرید کے بعد شاکرشجاع آبادی سرائیکی زبان کے سب سے بڑے شاعر ہیں ۔سیکرٹری پریس کلب عبدالمجید ساجد نے کہا کہ شاکرشجاع آبادی سرائیکی وسیب کی ہی پہچان نہیں بلکہ پورے پنجاب اور ملک کی شناخت ہیں۔ان کی شاعری میں عشق و محبت اور ہجر و وصال کے مضامین بھی اپنی بہار دکھاتے ہیں اور لطیف انسانی احساسات و جذبات کی ترجمانی کرتے ہیں ۔ ا س موقع پر مہمان خصوصی صوبائی وزیر خزانہ مخدوم ہاشم جواں بخت نے اپنے خطاب میں کہا کہ شاعر اور ادیب معاشرے کے نباض ہوتے ہیں۔شاکرشجاع آبادی ہمارے عہد کے بڑے شاعر ہیں۔ان کے اشعار زبان زد عام ہیں۔پی ٹی آئی کی حکومت شاعروں،ادیبوں،اہل قلم اور آرٹسٹوں کی فلاح و بہبود کے لیے پالیسی بنا رہی ہے۔انہوں نے مہمان شاعر کے علاج معالجہ کے لیے ذاتی جیب سے 50ہزار پیش کیے اور اس سلسلہ میں وزیراعلی سے بات کرنے کی بھی یقین دہانی کرائی۔ اس موقع پر چیئر مین لٹریری کمیٹی زاہد گوگی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ادبی محافل سجانا اور شاعروں ادیبوں کی بھرپور پذیرائی ہماری روایات کا حصہ ہے۔لاہور پریس کلب صحافتی سرگرمیوں کا ہی مرکز نہیں ہے بلکہ علمی،ادبی،ثقافتی اور تفریحی پروگرام بھی یہاں تواتر سے انعقاد پذیر ہوتے ہیں۔اس موقع پر مہمان شاعر شاکر شجاع آبادی نے اپنا تازہ کلام پیش کیا جس پر شرکاءمحفل نے تالیاں بجا کر انہیں بھرپور داد دی۔شاکر شجاع آبادی نے حاضرین کی فرمائش پر اپنا مزاحمتی کلام اور مشہور غزلیں بھی سنائیں۔ پر وگرام کے آخر میں پریس کلب کی طرف سے شاکرشجاع آبادی کو یادگاری سوینئر اور پھول پیش کیے گئے

You might also like

Comments are closed.