لاہور میں فیض انٹرنیشنل فیسٹول کا آغاز ہوگیا

لاہور میں فیض انٹرنیشنل فیسٹول کا آغاز ہوگیا

چوتھے فیض انٹرنیشنل فیسٹول کا آغاز الحمراء میں ہوگیا.پہلے روز دوستی کو مضبوط بنانے پر زور دیا گیا. نامور شعرا کیفی اعظمی اور فیض احمد فیض کی صاحبزادیوں شبانہ اعظمی اور سلیمہ ہاشمی نے اپنے والد کی زندگی کے نشیب و فراز کے بارے بیان کیا. فیسٹیول میں ارشد محمود، زریں پنا، آئی اے رحمان، اسماء عباس، خواجہ نجم الحسن، عارفہ سیدہ، خالد غیاث,محمد نورالحسن سمیت مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی . میزبانی کے فرائض عدیل ہاشمی اور میرا ہاشمی نے انجام دیئے.

شبانہ اعظمی نے گفتگو کے آغاز میں کہا کہ مختصر وقت کے پاکستان آنا ہوا ہے. فیض انٹرنیشنل فیسٹیول میں اگلے سال بھی شرکت کروں گی.

والد صاحب کیا کام کرتے تھے مجھے علم نہیں تھا. سکول میں جاکر پتہ چلا کہ میرے ابا شاعری کرتے ہیں اور یہ اچھا کام ہے. شبانہ اعظمی نے اپنے والد کی 1947ء میں لکھی نظم زندگی جہد میں کاٹی سنائی. شبانہ اعظمی نے اپنے والدین کی رومانوی داستان بھی سنائی.شبانہ اعظمی نے بتایا کہ جب فلم "ارتھ”کی تو اس کے بعد میں نے خواتین کے حقوق کیلئے کام شروع کیا،میرے پاس خواتین اپنے مسائل لے کر آتی تھیں.شبانہ اعظمی نے کہا کہ آرٹسٹ تو بے خوف ہوتا ہے، کیفی اور فیض بھی بے خوف تھے، شبانہ اعظمی نے بتایا کہ ابا جب کچھ لکھتے تو کسی کو بولنے کام کرنے سے تنگ نہیں ہوتے تھے، شبانہ اعظمی نے اپنے والد کیفی اعظمی کے بارے میں مذید بتایا کہ ابا نے کہا کہ جب تبدیلی کیلئے کام کریں تو یہ گنجائش رکھیں کہ ہوسکتا ہے کہ وہ تبدیلی آپ کیلئے نہ ہو یا پھر آپ کے جانے کے بعد آئے، مگر تبدیلی ضرور آئے گی،شبانہ اعظمی نے فیض احمد فیض سے اپنی ملاقاتوں کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ فیض صاحب کو پتہ چلا کہ مجھے اردو نہیں آتی تو بولے کہ تمہارے ماں باپ بڑے نامعقول ہیں
جہنوں نے تمہیں اردو نہیں سکھائی. میں نے فیض صاحب سے کہا مجھےآپ کے بہت سارے اشعار زبانی یاد ہیں. میں نے گھبراہٹ میں پہلے میر تقی میر اور پھر بہادر شاہ ظفر کا شعر سنا دیا. اور انہوں نے کہا یہ شعر میرے نہیں تو میں بہت شرمندہ ہوئی اور باہر چلی گئی تو مجھے ان کے سارے شعر آنا شروع ہوگئے. شبانہ اعظمی نے بتایا کہ کیفی صاحب زندگی کے آخری ادوار میں بہت مصروف ہوگئے تھے.اپنے شوہر جاوید اختر کے بارے میں بتایا کہ جاوید اختر کیفی صاحب کے پاس ہمارے گھر آتے تھے ان کے کام اور اطوار میں والد سے بہت مماثلت تھی.پھر دوستی ہوئی محبت ہوئی اور پھر شادی ہوگئی. فیض احمد فیض کی صاحبزادی سلیمہ ہاشمی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فیض صاحب نے جیل میں رہ کر کتاب لکھی اس وقت میری عمر سات سال تھی انہوں نے میری سالگرہ پر میرے لئے ایک سوٹ تحفہ میں بھجوایا تھا. فیض صاحب نے کتاب میری والدہ کے نام کی تھی. کسی کو ان کے کلثوم نام کا معلوم نہیں تھا. ہماری والدہ کو بھی کلثوم نام بالکل پسند نہ تھا،والد کے جیل جانے کی وضاحت پر والدہ نے بتایا کہ وہ سمگلر,چور یا بدمعاش نہیں بلکہ سچ بولنے پر جیل گئے،تب پتہ چلا سچ بولنے پر جیل بھی جانا پڑتا ہے. سلیمہ ہاشمی نے بتایا کہ فیض مجھے کہتے کہ میں نے تو 5 سال صحافت، 5 سال جیل، 5 سال نیشنل آرٹس کونسل ، 5 سال جلا وطنی کاٹی لیکن تم کیسے مسلسل نوکری کرتی ہو،انہوں نے بتایا کہ فیض کو فلمیں بنانے کا بہت شوق تھا، انہوں نے ایک فلم بھی بنائی تھی.

شاعر جاوید اختر کو میزبان عدیل ہاشمی نے اسٹیج پر مدعو کیا تو ہال میں لوگوں نے کھڑے ہوکران کا تالیوں سے والہانہ استقبال کیا. جاوید اختر نے فرمائش پر اپنا کلام بھی سنایا .
ان کی نظمیں سن کر ہال تالیوں سے گونج اٹھاتقریب میں کیفی اعظمی کی آواز میں ریکارڈ شدہ ان کی نظم کا ٹریک بھی سنایا گیا.

جہاں ہال کے اندر زبردست ماحول تھا وہیں الحمراء کے احاطہ میں بھی مختلف نئے فنکاروں نے اپنا رنگ خوب جمائے رکھا. جس سے فیسٹیول میں شریک لوگ خوب محظوظ ہوتے رہے.فیسٹول کے پہلے روز پی اجوکا تھیٹر کا ڈرامہ کالا میڈا بھیس پیش کیا اور آخر میں معروف گلوکارہ طاہرہ سید نے فیض احمد فیض کا کلام گا کر سماں باندھ دیا.اس کے علاوہ آرٹ گیلری میں فیض احمد فیض کے ملبوسات ,ایوارڈز اور خطوط بھی نمائش کے رکھے گئے.

You might also like

Comments are closed.