فیاض الحسن چوہان ضمیر فروشوں کے خلاف ہوگئے

فیاض الحسن چوہان ضمیر فروشوں کے خلاف ہوگئے

صوبائی وزیر اطلاعات و ثقافت فیاض الحسن چوہان نے کہا ہے کہ وہ اخبارفروش یونین کے ساتھ ہیں لیکن ضمیر فروشوں کے خلاف ہیں، میڈیا ریاست کا چوتھا ستون ہے اورمیڈیا کا ستون اخبارفروش ہیں ، وزیراعظم عمران خان اور سردار عثمان بزدار اخبار فروشوں کے ساتھ ہیں،
ان خیالات کا اظہار فیاض الحسن چوہان نے الحمرا میں اخبار فروش یونین کے نومنتخب عہدیداران کی تقریب حلف برداری سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اخبارات کے جو واجبات ہیں وہ گزشتہ حکومتوں کے ہیں اورعمران خان نے تمام واجبات کی ادائیگی کی ہدایت دی ہے ۔ اس موقع پر اخبارفروش یونین کے صدر چوہدری نذیراحمدسمیت نومنتخب عہدیداروں نے اپنے عہدوں کا حلف اٹھایا ، تقریب میں صوبائی وزیراطلاعات ونشریات فیاض الحسن چوہان سمیت اہم صحافتی شخصیات نے شرکت کی ،صوبائی وزیرنے نومنتخب عہدیداروں سے حلف لیا، صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ چوہدری نذیراحمدگزشتہ 20 برسوں سے اخبارفروش یونین کی خدمت کررہے ہیں وہ اس پرانہیں مبارک بادپیش کرتے ہیں ، انہوں نے کہا وہ اخبارفروش یونین کے ساتھ ہیں لیکن ضمیر فروشوں کے خلاف ہیں، میڈیا ریاست کا چوتھا ستون ہے اورمیڈیا کا ستون اخبارفروش ہیں ، وزیراعظم عمران خان اور سردار عثمان بزدار اخبار فروشوں کے ساتھ ہیں، فیاض الحسن چوہان نے کہا اخبارات کے جو واجبات ہیں وہ گزشتہ حکومتوں کے ہیں اورعمران خان نے تمام واجبات کی ادائیگی کی ہدایت دی ہے ، انہوں نے یہ بھی کہا کہ اخبارات اورٹی وی چینلزکواشتہارات دیئے جارہے ہیں ،کسی ادارے کے اشہارات روکے ہیں اورنہ ہی کسی کے ساتھ پسندنہ پسندکا رویہ اپنایاجارہا ہے، نجم سیٹھی کے پاس چڑیا ہے تو میرے پاس باز ہے، صوبائی وزیرنے یہ بھی کہا کہ اگر زیرو سرکولیشن والے بھی اشتہارات مانگیں گے توایسا نہیں ہوسکتا، اشتہارات کے حوالے نئی پالیسی وزیر اعلی پنجاب کی مشاورت سے لائی جارہی ہے ، انہوں نے کہا ان کی حکومت پہلے دن سے ضمیر فروش یونین کے خلاف جنگ لڑ رہی ہے، ضمیرفروشوں نے ملک کودیوالیہ کردیا تھا ، عمران خان نے بیرون ملک دورے کرکے پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچایا، جوں جوں وقت گزرے کا پاکستان ترقی کی طرف جائے گا، عمران خان کا کارنامہ ہے کہ انہوں نے پاکستان کو 2018 میں دیوالیہ ہونے سے بچایا ہے، عمران خان اور عثمان بزادر کھڑے آدمی ہے کسی کی بلیک میلنگ میں نہیں آئیں گے، انہوں نے واضع کیا کہ آئین اور قانون کے مطابق کام کرنا ہے، عمران خان پاکستان کا ہیرو ہے، جو پاکستان کا نعرہ لگایے گا عمران خان اسکو سر پر بیٹھائے گا، اخبارفروش یونین لاہورکے صدر چوہدری نذیراحمدنے کہا سیاست اورصحافت لازم وملزوم ہیں ، صحافت مضبوط ہوگی توملک میں سیاست مضبوط ہوگی ، حکومت صحافتی ستون کو کمزورہونے سے بچائے ، اخبارفروش بھی اس ستون کا حصہ ہیں ، اخبارفروش موسم کی پرواکیے بغیرلوگوں کی دہلیزتک اخبارپہنچاتے ہیں ، اخبارفروش لوگوں کی دہلیزتک اطلاعات پہنچانے کے حوالے سے قومی فریضہ سرانجام دے رہے ہیں ، انہوں نے کہا عمران خان کی شکل میں قوم کو ایک بہترین اورقابل رہنماملا ہے ، اخبارفروش یونین حکومت کی مضبوطی کے لئے اپنا کرداراداکرتی رہیگی، تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سینئرصحافی ضیاشاہد نے کہا اخباری صنعت جھٹکوں سے چل رہی تھی تاہم اب اس میں بہتری آنا شروع ہوگئی ہے ، حکومت نے اشتہارات کی ترسیل شروع کردی ہے وقت گزرنے کے ساتھ اشہارات کی تعدادمیں اضافہ ہوگا، انہوں نے کہا کہ اخبارفروش مارکیٹ کی عمارت انتہائی خستہ حال ہے ، حکومت کواس پرتوجہ دینا چاہیے اوراخبارفروش مارکیٹ کے لیے مناسب جگہ فراہم کی جانی چاہیے ، انہوں نے مزیدکہا کہ اخباری صنعت زبوںحالی کا شکارہے ، اخبارات کی سرکولیشن کم ہوتی جارہی ہے ، اخباری مالکان اورایڈیٹرزکواس پہلوبارے سوچنے کی ضرورت ہے کہ کس طرح اخبارات کواس بحران سے نکالاجاسکتا ہے، تقریب سے مختلف اخبارات کے ایڈیٹرز، کالم نگاروں اورانتظامی ذمہ داران نے بھی خطاب کیا اوراخبارفروش یونین کے نومنتخب عہدیداروں کومبارک باد دی ، حلف برداری تقریب سے اخبارفروش یونین کے الیکشن بورڈکے چیئرمین محمدرفیق مغل ، سیکرٹری جنرل چوہدری عاشق، اخبارفروش یونین کے سیکرٹری جنرل محمدالیاس، ملک امتیاز، سجادعظیم، سمیت دیگرذمہ داران بھی خطاب کیا.قبل ازیں
صوبائی وزیر اطلاعات و ثقافت فیاض الحسن چوہان نے پنجاب حکومت کی سو روزہ کارکردگی بارے الحمرا آرٹ کونسل میں پریس بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ کلچردنیا بھر میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ کا اہم ترین عنصر تسلیم کیا جا رہا ہے۔یہی وجہ ہے کہ تحریک انصاف کے ابتدائی سو روزہ ایجنڈے میں کلچر کو خصوصی اہمیت دی کئی ہے۔ تین ماہ کے مختصر عرصہ میں صنعت اور لیبر پالیسی کے متوازی ثقافتی پالیسی کی تیاری اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ حکومت معاشی بحران پر کنٹرول کے لیے درست سمت کا تعین کر چکی ہے۔ہم مکمل طور پر امید ہیں کہ بہت جلد ان معاشی مسائل پر قابو پا لیں گے جو گزشتہ حکومت ہمیں تحفے کے طور پر منتقل کر کے گئی ہے۔تحریک انصاف کی حکومت اطلاعات کے محکمے کو بھی مزید فعال بنا رہی ہے۔ لیکن ہماری یہ فعلیت خود نمائشی تک محدود نہیں ہو گی نہ ہی ہم اربوں روپے کے تصویر زدہ اشتہارات سے قومی خزانے کا بیڑہ غرق کریں گے۔ شعبہ اشتہارات میں شفاف آڈٹ کا عمل آغاز کیا جا چکا ہے۔ جلد ہی میڈیا مالکان اُس تبدیلی کو محسوس کریں گے جو نئے پاکستان کی بنیاد ہے۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ محکمہ اطلاعات و ثقافت نے گزشتہ سو دن میں حکومت کے ویژن کو سمجھتے ہوئے ثقافتی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے بہت سے اہم اقدامات اُٹھائے ہیں۔جن میں الحمرا سکول آف پرفارمنگ آرٹس کی شروعات، باغ جناح میں موجود اوپن ائیر تھیٹر کی اپ گریڈیشن، اور 200ملین کی خطیر رقم سے بھکر آرٹس کونسل کا قیام شامل ہے۔ اس کے علاوہ لاہور میوزیم کی عمارت کی تزئین و آرائش کی جانب بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے سالانہ بجٹ میں 400 ملین کی رقم مختص کی گئی ہے۔ فنکار برادری ہمارا قومی اثاثہ ہے۔ ان کو سہولتیں دینا اور ان کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنا حکومت پنجاب کی اولین ترجیح ہے۔ اس لئے محکمہ اطلاعات و ثقافت کے زیر اہتمام فنکاروں کے لیے اور ان کے اہل و عیال کے لیے ہیلتھ انشورنس کارڈ کا اجرا بھی کیا جا رہا ہے۔ اس ہیلتھ انشورنس سے تقریبا 6000 خاندان مستفید ہوں گے۔ اسی طرح موجودہ مالیاتی سال میں 70 لاکھ کے فنڈز آرٹسٹ سپورٹ فنڈ میں بھی رکھے گئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ فن اور فنکار کی قدر کرنے والی قومیں قومیں ہمیشہ زندہ رہتی ہیں۔ اس لیے محکمہ اطلاعات و ثقافت نے آرٹ کو محفوظ کرنے کے لیے الحمرا آرٹ میوزیم کو مزید بہتری کی طرف لے جانے کا عہد کیا ہے۔ صوبے میں نئے ٹیلنٹ کو فروغ دینے کے لیے وائس آف پنجاب کے نام سے میوزیکل ٹیلنٹ ہنٹ شو کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔ پر یس کے قوانین کتب کی اشاعت کے لیے لائنس کے اجراء اور اور پرنٹنگ پریس سے نکلنے والی ہر چیز با لخصوص اخبارات میں آزادی اظہارسے متعلق ہیں۔۔گزشتہ حکومت نے پریس سے متعلق کوئی قانون سازی نہیں کی تھی جس کے نتیجہ میں یہ تمام معاملات بغیر کسی وضع کردہ طریقہ کار اور قانون سازی کے چلائے جاتے رہے۔ موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہی پریس قوانین کی تیاری سے متعلق اہم اقدامات اٹھائے ہیں ا ور تمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے ایک بل بعنوان ”پریس، نیوز پیپر، نیوز ایجنسیز اینڈ بکس رجسٹریشن ایکٹ2018“ تیار کیا ہے۔

جس کے تحت صوبائی آڈٹ بیورو آف سرکولیشن اور صوبائی پریس رجسٹرار کے دفتر کا قیام اور شکایات کا ازالہ کیا جائے گا۔حکومت کے متعلقہ محکمے کے علاقائی دفاتر کو اختیارات تفویض کیے جائیں گے جس کے تحت وہ اپنے علاقے میں شائع ہونے والی کتب،اخبارات، اور پرنٹنگ پریس کی نگرانی کریں گے تا کہ علاقائی سطح پر ان کی صحیح جانچ پڑتال کی جاسکے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر ثقافتی پالیسی پر کام شروع کیا گیا ہے جس میں تجربہ کار اور اپنے شعبہ جات کے ماہرین پر مشتمل ورکنگ گروپس تشکیل دئیے گئے ہیں۔ یہ گروپس محکمہ اطلاعات و ثقافت پنجاب کے زیر نگرانی کام کریں گے۔ثقافتی پالیسی کے فروغ میں عالمی رجحانات کا جائزہ لے کر اور موجودہ ثقافتی اداروں کی اہلیت و استعداد کے تجربے کو مد نظر رکھ کر یہ عمل مکمل کیا گیا ہے۔ صوبائی وزیر اطلاعات و ثقافت اور دیگر محکموں نے اس دستاویز کابخوبی جائزہ لیا ہے۔ اس دستاویز کو آن لائن رکھ دیا گیا تاکہ عوام الناس اور دیگر سٹیک ہولڈرز کا رد عمل حاصل کیا جا سکے۔ موجودہ حکومت میں اشتہاراتی پالیسی 2018 از سر نو مرتب کی ہے جس کے تحت اخبارات کی مخصوص درجہ بندی: علاقائی، صوبائی اور قومی درجہ بندی کی جائے گی۔ پرنٹ، الیکٹرانک، ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا کے لیے مختلف صوبائی محکمو ں کا اشتہاری نرخ کا تعین کیا جائے گا۔مختلف محکموں کے واجبات کی ادائیگی اور بلوں سے متعلق معاملات کا ڈی جی پی آر کے ساتھ مل کر ماہانہ حساب کتاب لیا جائے گا۔ واجب الادا رقم کی جلد وصولی کے لیے اقدامات تجویز کئے جائیں گے اوراشتہاری ایجنسیوں کے چناؤ کے لیے ایک صاف شفاف اور مضبوط طریقہ کار وضع کیا جائے گا تاکہ کسی ایک اشتہاری ایجنسی کو نوازنے کی پالیسی کا مکمل خاتمہ ہو سکے۔ ویب سائٹ اور سوشل میڈیا پر اشتہارات کے اجراء کے لیے بھی اصول وضع کیے جائیں گے۔اس موقع پر سیکرٹری کلچر بلال بٹ, ای ڈی الحمراء آرٹ کونسل اطہر علی خاں, پلاک ڈائریکٹر صغرا صدف, لاہور میوزیم کی ڈائریکٹر ثمن رائے سمیت دیگر موجود تھے.

You might also like

Comments are closed.