راجہ عثمان کی چیف جسٹس آف پاکستان اور وزیر اعظم سے اپیل

راجہ عثمان کی چیف جسٹس آف پاکستان اور وزیر اعظم سے اپیل

اسلام آباد کے مشہور بیرسٹر فہد ملک قتل کیس میں گفتار ملزم راجہ ارشد کے بیٹے نے اپنے والد کو سازش کے تحت اس واقعہ میں ملوث کرنے کا الزام لگاتے ہوئے ان کی رہائی اور انصاف کی فراہمی کیلئے باقاعدہ تحریک کا آغاز کردیا ہے انگلینڈ کے شہر مانچسٹر میں اپنے وکیل اور کمیونٹی رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے راجہ عثمان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے بااثر افراد ان کے بے گناہ والد کو جھوٹے مقدمہ میں سزا دلوانا چاہتے ہیں

میرے والد کا بیرسٹر فہد قتل سے کوئی تعلق نہیں ،سازش کے تحت قتل کیس میں پھنسایا گیا ہے۔ چیف جسٹس اور وزیر اعظم عمران خان نوٹس لیکر آزاد انکوائری کروائیں اور دو سال سے بے گناہ قید کاٹنے والے راجہ ارشد کو رہائی دلوائیں۔ ملزم راجہ ارشد کے بیٹے راجہ عثمان نے بیرسٹر فہد ملک کا قتل گھناؤنا واقعہ تھا اس کے اصل ذمہ داروں کو گرفتار کرکے قرار واقعہ سزا دی جانی چاہئے مانچسٹر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ طارق ملک نامی شخص نے وقوعہ والے دن فہد ملک کو بلایا۔ راجہ ٓعثمان کا کہنا تھا کہ ان کے والد کا اس قتل کیس سے کوئی تعلق واسطہ نہیں ہے۔ میرے والد کو اس کیس میں پھنسایا اور گرفتار کروایا۔ ان کا کہنا تھا کہ طارق ملک نامی شخص کو شامل تفتیش کیا جانا چاہئے ۔

راجہ عثمان کا مزید کہنا تھا کہ ان کے والد کو دو سال سے بے گناہ جیل میں رکھا گیا ہے۔یاد رہے کہ بیرسٹر فہد ملک کو دو ہزار سولہ میں اسلام آباد کے علاقہ میں فائرنگ کرکے بے دردی سے قتل کردیا گیا تھا ، اس کیس میں پولیس نے تین ملزمان راجہ ارشد ،نعمان کھوکھر،راجہ ہاشم خان کو گرفتار کررکھا ہے۔ تین ملزمان پر فرد جرم عائد کی جا چکی ہے، جن میں راجہ ارشد محمود، نعمان یعقوب کھوکھر اور راجہ ہاشم خان شامل ہیں۔ شالیمار پولیس سٹیشن نے 15 اگست 2016 کو ملزمان کو گرفتار کیا تھا ۔ راجہ ارشد کے بیٹے راجہ عثمان نے چیف جسٹس آف پاکستان اور وزیر اعظم عمران خان سے اپیل کی کہ وہ دلچپسی لیتے ہوئے اس کیس کی دوبارہ آزاد انکوائری کروائیں تاکہ جو اس کیس کے اصل مجرمان تک پہنچا کا سکے اور کسی بے گناہ کو ناکردہ گناہ کی سزا نہ ملے راجہ عثمان نے اعلان کیا کہ وہ اصل قاتلوں کی گرفتاری کے کیلئے باقاعدہ مہم شروع کر رہے ہیں جس میں ممبران پارلیمنٹ کمیونیٹی رہنماؤں سمیت انسانی حقوق کی تنظیموں سے بھی رابطے کئے جائیں گے

You might also like

Comments are closed.