پِلاک کے زیر اہتمام ”خواجہ غلام فرید تے وحدتِ انسانی“ کے حوالے سے سیمینار

پِلاک کے زیر اہتمام ”خواجہ غلام فرید تے وحدتِ انسانی“ کے حوالے سے سیمینار

پنجاب انسٹیٹیوٹ آف لینگوئج، آرٹ اینڈ کلچر (پِلاک) کے زیر اہتمام صوفی شاعر خواجہ غلام فرید کے 121 ویں عرس کی مناسبت سے ”خواجہ غلام فرید تے وحدتِ انسانی“ کے حوالے سے ایک سیمینار منعقد کیا گیا۔ اس سیمینار کی صدارت شاعر، دانشور اور محقق ڈاکٹر شہزاد قیصر نے کی۔ سجادہ نشین دربار فرید خواجہ معین الدین محبوب کوریجہ نے خصوصی طور پر شرکت کی۔ اظہار خیال کرنے والوں میں ڈاکٹر سلیم مظہر، مسرت کلانچوی، ڈاکٹر صغرا صدف اور ڈاکٹر سعادت علی ثاقب شامل تھے۔

خواجہ معین الدین محبوب کوریجہ نے کہا کہ خواجہ فرید اور دیگر تمام صوفیوں پر تحقیق کی بہت ضرورت ہے تا کہ لوگ صوفیوں کے پیغام کو سمجھ سکیں۔ ڈاکٹر سلیم مظہر نے خواجہ فرید کے کلام میں فارسی رنگ، اثرات اور مولانا روم کے ساتھ اس کا تقابلی جائزہ پیش کرتے ہوئے بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا۔ ڈاکٹر صغرا صدف نے وحدتِ انسانی کی بات کرتے ہوئے کہا کہ خواجہ فرید نے وحدت الوجود کے فلسفے کے ذریعے پوری کائنات کو ہم آہنگ کر دیا ہے۔ صوفی وحدتِ انسانی کی بات کر کے معاشرے میں مساوات، محبت اور رواداری کو فروغ دیتا ہے۔ ڈاکٹر شہزاد قیصر نے مابعد الطبیعاتی بنیادوں پر وحدت الوجود کے فلسفے کی تشریح کی اور کہا کہ تمام صوفی شاعروں میں سب سے منفرد طور پر خواجہ غلام فرید نے وحدت الوجود اور وحدتِ انسانی کی تشریح کی ہے۔ مقررین نے عظیم صوفی شاعر خواجہ غلام فرید کی شخصیت، فن اور کلام کے حوالے سے مدلّل گفتگو کی جسے حاضرین نے بہت سراہا۔ آخر میں ثریا ملتانیکر، راحت ملتانیکر، سجاد بری اور رائے ندیم نے خواجہ فرید کا کلام ترنّم سے پیش کر کے حاضرین سے بھرپور داد وصول کی۔ اس تقریب میں نظامت کے فرائض سعادت علی ثاقب نے سر انجام دئیے۔ تقریب میں دانشوروں، ادیبوں، شاعروں اور فنکاروں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

You might also like

Comments are closed.