امجد رشید نے کی میڈیا سے اہم گفتگو

اپنے مستقبل کے پراجیکٹس بارےآگاہ کیا

کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آئی ایم جی سی گلوبل کے چیئرمین امجد رشید نے کہا ہے کہ پاکستان کو اس وقت غیر ملکی زرِ مبادلہ کی شدید ضرورت ہے اور وہ اسی سلسلے میں کام کررہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی پہلی ویب سیریز عنایا کو بیچ کر انہوں نے چار لاکھ ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ پاکستان لے کر آئے ہیں۔اسی طرح رواں برس مارچ میں ایک اور ویب سیریز بین الاقوامی ادارے (eros)کے ساتھ شروع کی جارہی ہے جو پہلے سے زیادہ زرِ مبادلہ ملک میں لے کر آئے گی، اس سلسلے میں معاہدے پر طے پا چکا ہے۔رسوائی’ کے نام سے یہ ویب سیریز شاہد شفاعت کی ہدایت کاری میں بنائی جارہی ہے جسے عاصمہ نبیل نے تحریر کیا ہے اور اس کے نمایاں اداکاروں میں فیروز خان اور سوہائے علی ابڑو شامل ہونگے۔امجد رشید نے انکشاف کیا کہ وہ پاکستان کے پہلے ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر کام کررہے ہیں اور کچھ عرصے میں Netflix کی طرز پر پاکستان کا پہلا ڈیجیٹل انٹرٹینمنٹ پلیٹ فارم تیار ہوجائے گا۔امجد رشید نے بتایا کہ گزشتہ 9 برس کے دوران وہ اب تک تین سو فلموں کی ڈسٹری بیوشن کرچکے ہیں جن میں سے 40 انگریزی، 22 پاکستانی اور دیگر بالی ووڈ کی فلمیں تھیں۔ ان میں سے 39 فلمیں ایسی تھیں جو 100 کروڑ کلب میں شامل ہوئیں۔انہوں نے بتایا کہ ہندوستان میں پاکستانی مصنفین کی بہت مانگ ہے اور راج کمار ہرانی سمیت کئی بالی ووڈ کے نامور ہدایتکار اور پروڈٰوسرز پاکستانی مصنفین کے ساتھ کام کرنا چاہتے ہیں۔پاکستان اور بھارت کے درمیان ثقافتی رابطے بحال رکھنے سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ پڑوسی ملک میں بھی کئی افراد ایسے ہیں جو حکومت پر مسلسل دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ پاکستان کے ساتھ کم از کم ایک رابطہ اس شکل میں بحال رکھے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستانی مصنفین، پروڈیوسرز، اداکاروں اور ہدایتکاروں پر مشتمل ایک گِلڈ کا قیام بھی عمل میں لایا جارہا ہے جس کے تحت دبئی میں پاکستانی ٹیلنٹ کے ساتھ بالی ووڈ کا اشتراک کیا جائے گا اور اس سلسلے میں عاصمہ نبیل پہلا اسکرپٹ لکھ رہی ہیں۔ اس کا نام انہوں نے ون اسٹاپ انٹرٹینمنٹ رکھا ہے جس کے تحت وہ پاکستان فنکاروں کو دنیا بھر میں متعارف کروانے کا ارادہ رکھتے ہیں جس میں عالمی ادارے ڈزنی کے ساتھ بھی اشتراک شامل ہے۔ان کا کہنا تھا کہ نو برس کی ڈسٹری بیوشن کے بعد وہ چاہتے تھے کہ اس کام کو بڑھایا جائے اس لیے انہوں نے پاکستان کے چھوٹے شہروں میں سینیما گھر بنائے جن میں سرگودھا اور منڈی بہاالدین شامل ہیں جبکہ مزید چار شہروں، جن میں بہاولپور، سکھر،اوکاڑہ ، بورے والا( ضلع وہاڑی) شامل ہیں میں سینیما گھر تعمیر کے آخری مراحل میں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ چھوٹے شہروں میں سینما تعمیر کرکے اسے پاکستان بھر میں عام کرنا چاہتے ہیں۔رواں برس آنے والی پاکستان فلموں کے ضمن میں ان کا کہنا تھا کہ عید الفطر پر ان کی اپنی پروڈکشن رانگ نمبر 2 نمائش کے لیے پیش کی جارہی ہے جو پنجابی فلم ’دی لیجنڈ آف مولا جٹ‘ کے ساتھ ریلیز کی جائے گی۔ امجد رشید کا کہنا تھا کہ ان کی خواہش ہے کہ ’دی لیجنڈ آف مولا جٹ‘ بہت اچھا بزنس کرے اور وہ اپنی فلم مقابلے پر نہیں لارہے بلکہ اوور فلو کے لیے لارہے ہیں کیونکہ عید پر لوگ صرف ایک فلم نہیں دیکھتے اور کیونکہ بالی ووڈ کی فلموں پر عید کے ایک ہفتے ریلیز پر پابندی عائد ہے تو وہ اس موقع کا اسے ریلیز کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کی کوشش ہے کہ سلمان خان کی فلم ’بھارت‘ بھی وہی پاکستان لے کر آئیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ فلم رانگ نمبر 2 کی موسیقی بھی انہوں نے چالیس لاکھ پاکستانی روپے میں فروخت کی ہے جبکہ اس سے پہلے پاکستانی موسیقی کو مناسب قیمت ملنے کا رواج دم توڑ چکا تھا اور اس کاوش کے ذریعے دیگر فلم میکرز کو بھی فائدہ حاصل ہوگا اور پاکستان میں زرمبادلہ آنے کی راہ مزید ہموار ہوگی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے بھارتی پنجاب کے فلم میکرز کے اشتراک سے تین پنجابی فلمیں بنانے کا بھی منصوبہ بنایا ہے جس کے تحت ایک فلم بھارت، دوسری پاکستان اور تیسری برطانیہ یا کینیڈا میں بنائی جائے گی۔ اس سلسلے کی پہلی فلم ’سُچا سورما‘ بھارت میں بنائی جارہی ہے۔رواں برس بقرعید کے موقع پر ان کی جانب سے ’ہیر مان جا!‘ نمائش کے لیے پیش کی جائے گے اور اس سلسلے میں وہ صرف ڈسٹری بیوٹر کا کردار ادا کریں گے۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.