ہیلتھ کارڈ اور وائس آف پنجاب, ہوا اجلاس

مستحق فنکاروں کی مالی امداد, ایک کروڑ روپے مختص

وزیر اطلاعات وثقافت پنجاب فیاض الحسن چوہان نے آج الحمرا میں ہیلتھ کارڈ اور وائس آف پنجاب کے حوالے سے ایک اہم اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں سیکرٹری انفارمیشن اینڈ کلچر مومن آغا، ایڈیشنل سیکرٹری عامر عقیق، ایگزیکتو ڈائریکٹر پنجاب آرٹس کونسل ثمن رائے، ایگزیکٹو ڈائریکٹر الحمرا اطہر علی خان اور تمام آرٹس کونسل کے ڈائریکٹرز بھی موجود تھے۔ اس موقع پرانہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب فنکاروں کی فلاح و بہبود، علاج معالجے اورانہیں فنکارانہ صلاحیتوں کے اظہار کے بھرپور مواقع فراہم کر رہی ہے، صوبائی حکومت کی طرف سے مستحق فنکاروں کی مالی امداد کے لئے ایک کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔ میرٹ کی بنیادپرپنجاب کے چھ ہزارفنکاروں میں چارلاکھ روپے مالیت کا ہیلتھ کارڈجلدجاری کریں گے جن سے فنکاروں کے اہل خانہ کو طبی سہولیات مفت حاصل ہوں گی جبکہ وائس آف پنجاب کے ذریعے نیا ٹیلنٹ سامنے لائیں گے۔ ہیلتھ انشورنس کارڈ کی فراہمی کا عمل مزید آسان بنا دیا گیا ہے۔آرٹسٹ ہیلتھ انشورنس کارڈ فارم جمع کرواتے وقت ڈومیسائیل کی شرط ختم کر دی گئی ہے۔آرٹسٹ مقامی عہدیداروں کی تصدیق کے بغیر اپنا فارم جمع کروا سکیں گے۔صوبے کے 6 ہزارفنکاروں کی فیمیلیز کو4 لاکھ مالیت کا ہیلتھ کارڈجاری کریں گے،آرٹسٹ ہیلتھ انشورنس کارڈ کی فراہمی کو شفاف بنانا ہمارا مشن ہے۔ہیلتھ کارڈ وہ امانت ہے جو اس کے حقدار تک ضرور پہنچائیں گے۔صوبائی وزیر اطلاعات وثقافت فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ ہیلتھ کارڈسے فنکاراوراس کا خاندان فیض یاب ہوسکے گا تا کہ کسی بھی مشکل کی گھڑی میں اس کوپریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انھوں نے کہا کہ چارلاکھ روپے تک کے صحت کے حوالے سے اخراجات حکومت برداشت کرے گی۔انھوں نے کہا کہ وائس آف پنجاب مکمل طور پر سر کاری پروگرام ہے اور اس کے سر براہ ایڈیشنل سیکرٹری ہیں۔ وائس آف پنجاب اپنی نوعیت کا واحدپروگرام ہوگا جہاں دوردرازسے علاقوں کے گلوکاروں کواپنی صلاحتیں دکھانے کا موقع ملے۔انھوں نے بتایا کہ راولپنڈی،ملتان،فیصل آباداور لاہور سے 20 20, گلوکاروں کومنتخب کیا جائے گا جبکہ فائنل مقابلے لاہورمیں منعقدہوں ۔ صوبائی وزیر نے ایڈیشنل سیکرٹری کو ہدایت کی کہ یہ پروگرام تمام ریڈیو چینلز پر نشر کیا جائے اور وٹس ایپ نمبر کو وائرل کیا جائے۔پی ٹی وی کے ایم ڈی کے ساتھ تمام مراحل فائنل کیے جائیں۔ وائس آف پنجاب سیزن ون کے نام سے چلے گا اور پی ٹی آئی کی اگلے چار سال کی حکومت میں ہر سال نیا سیزن آئے گا۔ہیلتھ کارڈ اور وائس آف پنجاب کے حوالے کسی قسم کی سستی اور کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔

You might also like

Comments are closed.