پلاک میں شاعر اقبال سوکڑی کے ساتھ ایک شام

پنجاب انسٹیٹیوٹ آف لینگوئج، آرٹ اینڈ کلچر (پِلاک) کے زیر اہتمام ڈیرہ غازی خان کے معروف شاعر اقبال سوکڑی کے ساتھ ایک شام منائی گئی۔

جس میں ملک کے نامور ادیبوں اور شاعروں نے شرکت کی۔ مقررین میں سب سے پہلے ڈاکٹر صغرا صدف نے اقبال سوکڑی کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اقبال سوکڑی شاعری میں اپنا اِک منفرد مقام رکھتے ہیں اور شعری جمالیات اور جداگانہ اسلوب کی وجہ سے جانے مانے جاتے ہیں۔ ان کی شخصیت میں عجب قسم کی درویشی اور بے نیازی ہے۔ وہ ایک سچے تخلیق کار ہیں۔ زمین اور قدروں سے مضبوط جڑت ان کی شاعری میں رنگ دکھاتی ہے۔

اس کے بعد منصور آفاق، حیدر اقبال سید، ارشاد امین، عاصم تنہا اور خاقان حیدر غازی نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ مقررین نے اقبال سوکڑی کی شاعری کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ خواجہ غلام فرید کے بعد جمالیاتی شاعری میں اقبال سوکڑی کا کوئی ثانی نہیں اور یہ سرائیکی کا سب سے بڑا شاعر ہے۔ اقبال سوکڑی نے اپنا کلام پڑھ کر سنایا اور حاضرین سے بھرپور داد وصول کی۔ افضل عاجز نے سٹیج سیکرٹری کا فرض نبھایا اور اقبال سوکڑی کا تفصیلی تعارف کرایا۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.