بین الاقوامی

شامی صدر بشار الاسد کے بھائی کے میوزیم پر کروڑوں خرچ

شامی حکومت نے اپنے فراخ دلانہ وعدوں کو پورا کرنے کے بجائے عوام کو شامی صدر کے بڑے بھائی باسل الاسد کے نام سے میوزیم کا تحفہ پیش کیا ہے۔ باسل 1994 میں ایک ٹریفک حادثے میں ہلاک ہو گیا تھا۔میڈیارپورٹس کے مطابق شامی حکومت نے لاذقیہ میں مذکورہ میوزیم کا افتتاح کیا۔یہ میوزیم پوری دنیا کے لیے پیغام ہے کہ شام ایک محبت کرنے والا ملک ہے۔باسل الاسد میوزیم کے افتتاح پر کروڑوں شامی لیرہ خرچ کر دیے گئے۔ افتتاح کے موقع پر لاذقیہ میں سرکاری ذمے داران کے حلقوں میں شدید افراتفری پائی گئی۔ انہیں اس پریشانی کا سامنا تھا کہ آخر وہ اس میوزیم میں کیا چیزیں رکھیں ؟ بالخصوص جب کہ باسل الاسد کی زندگی میں کامیابیوں کی تفصیلات بہت محدود ہیں جن کی بنیاد پر باسل کے لیے اور اس کے نام پر میوزیم قائم نہیں کیا جا سکتا۔اس حوالے سے سرکاری ذمے داران نے میوزیم میں باسل الاسد کے اس لباس کو رکھ دیا جو وہ گھوڑے پر سواری کے وقت پہنا کرتا تھا، علاوہ ازیں میوزیم میں ان زینوںکو بھی نمائش کے لیے پیش کیا گیا ہے جو بشار الاسد کا بھائی گھوڑوں پر رکھا کرتا تھا۔ ساتھ ہی باسل کی 60 تصاویر ، کپ اور میڈلز بھی سجائے گئے ہیں۔ شامی سرکاری ذرائع کے مطابق باسل الاسد میوزیم کی کل متاع یہ ہی ہے۔میوزیم میں باسل الاسد کی موت کے بعد جنازے کے موقع پر اس کی تابوت کی لی گئی تصاویر بھی موجود ہیں۔
٭٭٭٭٭

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: