شوبزانٹرٹینمنٹ

مقدس مقام پر 10سال کی عمر میں جنسی استحصال کیا گیا، گلوکارہ نیہا بھاسن

معروف پاکستانی گلوکاروں راحت فتح علی خان، عاطف اسلم اور فریحہ پرویز کے گانوں کو گاکر شہرت حاصل کرنے والی بھارتی گلوکارہ 38 سالہ نیہا بھاسن نے انکشاف کیا ہے کہ ان کا زندگی میں متعدد بار جنسی استحصال کیا گیا۔عاطف اسلم کے گانے ‘دل دیاں گلاں’ راحت فتح علی خان کے ‘جگ گھومیا’ اور فریحہ پرویز کے پنجابی گانے ‘لونگ گواچہ’ سمیت متعدد گانوں میں آواز کا جادو جگانے والی گلوکارہ نے حال ہی میں ایک انٹرویو میں خود کو ملنے والی موت اور ‘ریپ’ کی دھمکیوں پر بھی کھل کر بات کی۔ایک انٹرویو میں نیہا بھاسن نے اپنے ساتھ ہونے والے خطرناک جنسی استحصال کے واقعات کو بیان کیا، تاہم انہوں نے کسی بالی ووڈ شخصیت کی جانب سے جنسی ہراسانی کا ذکر نہیں کیا۔گلوکارہ نیہا بھاسن نے اپنے ساتھ ہونے والے جنسی استحصال کے واقعات پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ جب وہ محض 10 سال کی تھیں تو انہیں ہندوئوں کیلئے مقدس شہر کی اہمیت رکھنے والے شہر ہردوار میں مذہبی عبادات کے دوران استحصال کا نشانہ بنایا گیا۔گلوکارہ نے واقعے کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اپنی والدہ کے ہمراہ عبادات میں مصروف تھیں، تاہم ان کی والدہ ان سے کچھ فاصلے پر تھیں کہ ایک شخص نے انہیں بری طرح چھوا۔گلوکارہ نے بتایا کہ مذکورہ واقعے نے ان کی ذہنی صحت پر اثر کیا اور وہ کافی عرصے تک صدمے سے نہ نکل سکیں۔نیہا بھاسن نے مزید بتایا کہ انہیں ایک بار بھرے ہال میں ایک شخص نے استحصال کا نشانہ بنایا۔گلوکارہ کے مطابق ہال میں ایک شخص نے ان کی چھاتی پر ہاتھ پھیرے اور وہ واقعہ آج بھی انہیں یاد ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک بار میں نے کسی گلوکار کی تعریف کی تو کورین میوزیکل بینڈ کے مداحوں نے مجھے سرعام ریپ کرنے اور موت کی دھمکیاں دیں۔نیہا بھاسن نے انٹرویو میں جنسی استحصال پر کھل کر بات کی، تاہم انہوں نے کسی ایسے واقعے کا ذکر نہیں کیا، جس سے ظاہر ہو کہ انہیں پروفیشنل کیریئر کے دوران بھی ہراسانی کا نشانہ بنایا گیا ہو۔
٭٭٭٭٭

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: