چین کو تائیوان کے صدارتی انتخابات میں دھچکا

0

سرکاری نتیجے کے مطابق سائی اِنگ وین نے انتخاب میں ریکارڈ 82 لاکھ ووٹ حاصل کیےجبکہ 2016 کے انتخاب میں انہیں انہتر لاکھ ووٹ پڑے تھے۔ان کے مقابلے میں چین کی حمایت یافتہ جماعت ‘کومِنٹانگ’ کے ہان کیو وو نے 39 فیصد ووٹ لیے۔

صدارتی انتخاب میں فتح کے بعد 63 سالہ سائی اِنگ وین کی پارٹی کے ہیڈکوارٹر کے باہر ان کے ہزاروں حامی جمع ہوئے اور جشن منایا۔یہ پہلا موقع ہے جب تائیوان میں کوئی خاتون دوسری مدت کے لیے صدر منتخب ہوئی ہیں۔

دوسری جانب تائیوان کے اہم فوجی اتحادی امریکا نے نتیجے کا خیر مقدم کیا اور سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو نے شدید دباؤ کے باوجود ریاست میں استحکام قائم رکھنے کے لیے سائی اِنگ وین کے عزم کی تعریف کی۔

چین اور تائیوان کے تعلقات میں اتار چڑھاؤ جاری رہتا ہے تاہم 2016 میں صدر سائی انگ وین کے اقتدار میں آنے کے بعد دونوں ممالک میں تعلقات میں اس وقت مزید خرابی پیدا ہوئی جب انہوں نے جزیرے کو ’ایک چین‘ سمجھنے کے بیجنگ کے موقف کو ماننے سے انکار کردیا تھا۔

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: