تجرباتی ویکسین جون یا جولائی تک تیار ہوجائے گی،کمپنی کا دعویٰ

0

ٹرمپ کی کرونا وائرس ویکسین پر امریکی اجارہ داری کے خواہش کو زوردارجھٹکا،،،ویکسین کی تیاری پر کام کرنے والے جرمن سائنسدانوں نےامریکی صدر کی جانب سے خطیرمعاوضے کی پیشکش ٹھکرادی

جرمنی اور امریکا کی حکومتیں نئے نوول کرونا وائرس کے خلاف بنائی جانے والی ایک ویکسین پرایک دوسرے کے مدمقابل آگئیں،،، ایک جرمن اخبار کی رپورٹ کےمطابق ایک جرمن کمپنی کی جانب سے کرونا وائرس کے خلاف ایک ویکسین کی تیاری پر کام ہورہا ہے۔

رپورٹ میں بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس ویکسین پر کام کرنےوالےجرمن سائنسدانوں کوخطیرمعاوضے کی پیشکش کی ہےکیونکہ وہ ان کے کام کے حقوق حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ رپورٹ کےمطابق ڈونلڈ ٹرمپ وہ سب کچھ کررہے ہیں جس سے انہیں ایک ویکسین مل سکے جو صرف امریکا کے لیے ہو۔

کیور ویک کی سب سے بڑی سرمایہ کار کمپنی ہوپ بائیو ٹیک ہولڈنگ کے سربراہ کرسٹوفر ہیٹیچ نے کہا کہ امریکا سے کوئی خاص معاہدہ ممکن نہیں۔انہوں نے کہا ہم پوری دنیا کے لیے ویکسین تیار کرنا چاہتے ہیں، صرف چند ممالک کے لیے نہیں۔ توقع ہے کہ تجرباتی ویکسین جون یا جولائی تک تیار ہوجائے گی اور پھر لوگوں پر اس کی آزمائش کی اجازت مل سکے گی۔

ادھر جرمن وزیر صحت جینز سفان نے جرمن ٹی وی کو بتایا کہ ان کی وزارت گزشتہ دو ہفتوں سے کمپنی سے بات چیت کررہی ہے اور کرونا ویکسین پر امریکی بالادستی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: