پاکستان صحت

کووِڈـ 19 کے دوسرے سال میں داخل ہونے سے بچوں کو پہلے سے خطرناک نتائج کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے، یونیسیف

یونیسف نے ااپنی ایک رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ کووِڈـ 19 کے دوسرے سال میں داخل ہونے سے بچوں کو پہلے سے خطرناک نتائج کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ پاکستان اور دنیا بھر میں منائے جانے والے بچوں کے عالمی دن کے موقع پر یونیسف کووِڈـ 19 پر اپنی پہلی رپورٹ ‘ایورٹنگ لوسٹ کووِڈ جنریشن’ منظرِ عام پر لایا ہے جس میں وبا کی صورتِ حال جاری رہنے سے بچوں پر ہونے والے خطرناک حد تک منفی اثرات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ اگرچہ عام طور پر بچوں میں کووِڈـ 19 کی علامات شدت اختیار نہیں کرتیں تاہم بچوں میں اس کے اثرات دیر تک رہتے ہیں اور ان کی تعلیم، غذائیت اور صحت کی خدمات پر منفی اثرات مرتب ہونے سے ان کی زندگیاں متاثر ہوتی ہیں۔ کووِڈـ 19 کی عالمی وبا کے دوران یہ غلط فہمی مسلسل پھیلائی جاتی رہی ہے کہ اس بیماری کے بچوں پر اثرات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ یونیسف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہنریٹا فور نے اس موقع پر بات کرتے ہوئے کہا کہ بچے نہ صرف بیماری سے متاثر ہوسکتے ہیں بلکہ بیماری پھیلانے کا بھی باعث بن سکتے ہیں لیکن یہ ایک بڑے مسئلے کا محض مختصر حصہ ہے۔ بچوں کے لئے ضروری خدمات کی فراہمی میں تعطل اور غربت کی شرح میں اضافہ بچوں کے لئے اس سے بھی کہیں بڑا خطرہ بن چکا ہے۔ یہ بحران جس حد تک طول پکڑے گا بچوں کی تعلیم ، صحت، غذا اور زندگیوں پر اس کے اس قدر زیادہ منفی اثرات مرتب ہونگے۔ اس لئے ہم سمجھتے ہیں کہ بچوں کی موجودہ نسل کا مستقبل شدید خطرے میں پڑچکا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق (3 نومبر تک) 87 ممالک جن میں مختلف عمر کے لوگوں کے اعداد و شمار جمع کئے ہیں وہاں کووِڈـ 19 سے متاثر ہونے والے بچوں یا نو بالغوں کی تعداد ، 9 میں سے 1 یا پھر 25.7 ملین کی آبادی میں 11 فی صد رہی ہے۔ عمر کے تناسب سے حاصل کردہ زیادہ قابلِ اعتماد اعداد و شمار کے مطابق بیماری، اموات اور ٹیسٹ کی بہتر سہولیات کی مدد سے یہ اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ کووِڈـ 19 کا عالمی بحران زدپذیر یا زیادہ خطرات کا شکار بچوں کو کس حد تک متاثر کررہا ہے اور اس صورتِ حال کے موثر جوابی اقدامات کیا ہوسکتے ہیں۔ اس موقع پر بات کرتے ہوئے پاکستان میں یونیسف کی نمائندہ مس عائدہ گرما نے کہا کہ کووِڈـ 19 کی وجہ سے آنے والا بحران بچوں کے حقوق کا بحران ہے،ہم سب کو اس سلسلے میں مل جل کر کام کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ عالمی وبا بچوں کی تعلیم، غذا اور صحت کو وہ نقصان پہنچا رہی ہے جس کی تلافی ممکن نہیں، ہمیں اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ ہر بچے کو وہ ضروری خدمات فراہم کی جارہی ہیں جن کا حصول اس کا بنیادی ہے حق ہے، ان خدمات سے بچوں کی بقا، صحت، تعلیم اور ان کی صلاحیتوں کے بھرپور اظہار کا حق مشروط ہے۔ یونیسف پاکستانی بچوں اور لوگوں کی ہر ممکن مدد کررہا ہے تاکہ وہ وبائی صورتِ حال سے جلد از جلد نجات حاصل کرسکیں۔ ہم پاکستانی حکومت مدد جاری رکھیں گے تاکہ پاکستان کا کوئی بھی بچہ پیچھے نہ رہ پائے”،بچے نہ صرف ایک دوسرے کو بلکہ بڑوں کو بھی متاثر کرسکتے ہیں تاہم رپورٹ میں کہا گیا کہ اگر بنیادی حفاظتی انتظامات کا خیال رکھا جائے تو بچوں کے لئے سکول کھلے رکھنا سکول بند کرنے کی نسبت کم نقصان دہ ہے کیونکہ سکول گلی محلے کی سطح پر وائرس کے پھیلاؤ کا بنیادی ذریعہ نہیں ہیں اور اس بات کے امکانات زیادہ ہیں کہ بچے سکول کی بجائے سکول سے باہر وائرس کا شکار ہوجائیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ کووِڈـ 19 کی وجہ سے صحت اور سماجی خدمات کی معطلی بچوں کے لئے انتہائی خطرناک صورتِ حال اختیار کرچکی ہے۔ یونیسف کے مذکورہ سروے کے دوران 140 ممالک سے حاصل شدہ اعداد و شمار کے استعمال سے یہ واضح ہوتا ہے کہ جن ممالک سے اعداد و شمار جمع کئے وہاں صحت کی سہولیات اور خدمات میں کووِڈـ 19 کی وجہ سے 10 فی صد کمی واقع ہوئی ہے جن میں معمول کی ویکسین کی فراہمی، بچوں کی بیماریوں کے علاج اور زچہ و بچہ کی صحت کی سہولیات میں کمی شامل ہے اور اس کمی کی وجہ کووِڈـ 19 کا شکار ہونے کا خوف ہے۔ 135 ممالک میں عورتوں اور بچوں کے لئے غذائی خدمات کی فراہمی میں 40 فی صد کمی واقع ہوئی ہے۔ اکتوبر 2020 میں 265 ملین بچے سکول کے کھانے سے محروم ہوچکے تھے۔ اس وقت یہ خدشہ پیدا ہوچکا ہے کہ 5 سال سے کم عمر کے 250 ملین بچے وٹامن اے فراہم کرنے والے پروگرام سے فائدہ اٹھانے سے محروم ہو سکتے ہیں۔ 65 ممالک سے حاصل شدہ اعداد و شمار یہ ظاہر کررہے ہیں کہ ستمبر 2020 تک سوشل ورکرز کے گھروں کے دوروں کی تعداد میں گذشتہ سال کی نسبت واضح کمی واقع ہوئی ہے۔ رپورٹ میں منظرِ عام پر آنے والے مزید پریشان کن اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ملک گیر سطح پر سکولوں کی بندش کی وجہ سے 30 ممالک میں 572 ملین بچے متاثر ہوئے ہیں جو کہ دنیا بھر میں سکول جانے والے بچوں کی کل تعداد کا 33 فی صد ہے۔ غذائی خدمات میں آنے والے تعطل اور ناقص غذا میں اضافے کی وجہ سے 12 ماہ کے عرصے میں 2 ملین مزید بچوں کی اموات اور 200000 مْردہ بچوں کی پیدائش کے خطرات پیدا ہوچکے ہیں۔ 2020 میں 5 سال سے کم عمر کے 6 سے 7ملین بچے ناقص غذا کی نشو و نما کی کمی کا شکار ہوں گے،اس کا مطلب ہے کہ اس سال ان مسائل کی وجہ سے بچوں کی شرح اموات میں 14 فی صد تک اضافہ ہوگا اور ہر ماہ خاص طور پر افریقہ اور نیم صحرائی افریقہ میں ناقص غذا کی وجہ سے 10, 000 اضافی اموات واقع ہونگی۔ عالمی سطح پر کثیر الجہت افلاس کا شکار بچوں ، جن کو تعلیم ، صحت ، رہائش، غذا، صحت و صفائی اور پانی تک رسائی حاصل نہیں ہے، کی تعداد میں 15 صد تک اضافہ ہوسکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ 2020 کے وسط میں 150 ملین بچے کثیر الجہت غربت کا شکار ہوسکتے ہیں،اس بحران کے جوابی اقدامات کے طور پر یونیسف دنیا بھر کی حکومتوں اور شراکت داروں پر زور دے رہا ہے کہ وہ تمام بچوں کی انٹرنیٹ تک رسائی یقینی بناتے ہوئے، اس بات کو یقینی بنائیں کہ تمام بچے تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ صحت اور غذائی کی خدمات تک رسائی کی ضمانت دیں اور ہر بچے کے لئے ویکسین کا حصول ممکن اور یقینی بنائیں،بچوں اور نوجوانوں کی ذہنی صحت کا تحفظ کریں اور ان کے استحصال، صنفی تشدد اور بچوں سے غفلت برتنے کا خاتمہ کریں،پینے کے صاف اور محفوظ پانی، حفظان صحت اور صحت و صفائی کی سہولیات تک رسائی میں اضافہ کریں اور ماحولیاتی تنزلی اور موسمیاتی تبدیلی کے مسئلے کا حل تلاش کریں،بچوں میں غربت میں اضافے کے رجحان کا خاتمہ ممکن بنائیں اور ہر ایک کے لئے غربت سے نجات کی منصوبہ بندی کریں۔ رپورٹ کے مطابق تنازعات، آفات اور ہجرت سے جڑے مسائل اور مشکلات کا شکار بچوں اور ان کے خاندانوں کے تحفظ اور حمایت کے لئے کوششیں بڑھا دیں۔ بچوں کے عالمی دن کے موقع پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر فور نے کہا کہ اس دن ہم حکومتوں، شراکت داروں اور نجی شعبوں پر زور دے رہے ہیں کہ وہ بچوں کی بات سنیں اور ان کی ضروریات کو ترجیحی بنیادوں پر پورا کریں۔ اس وقت جب وبا کے دنوں سے آگے ایک نئے مستقبل کو دیکھ رہے ہیں، ہمیں چاہیے کہ ہم بچوں کو اپنی اولین ترجیح سمجھیں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: