پاکستان

پاکستان میں سب سے زیادہ غیر محفوظ بچے اور بچیاں ہیں،مشتاق احمد

امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا سینیٹر مشتاق احمد خان بڈھ بیر میں بے رحمانہ طریقہ سے جلائی جانے والی معصوم بچی لیہ خان کے گھر آئے اور ان کے والد معراج گل سے تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔ اس موقع پر امیر جماعت اسلامی پشاور عتیق الرحمٰن، ڈپٹی سیکرٹری جنرل اکرام شاہ آفریدی، امیر زون پی کے 70 غربی سیار محمد، پی کے 71 قاری فیاض، سابق ڈسٹرکٹ ممبر حاجی ریاض ناظم اور سابق ٹاؤن ممبران حاجی نیاز محمد، حاجی جان افضل اور انجینئر محمد عمران بھی موجود تھے۔ سینیٹر مشتاق احمد خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ زینب الرٹ بل کے بعد اس کے لئے ایجنسی بھی بنادی گئی لیکن ہمارے بچے محفوظ نہ ہوسکے۔ اس سے پہلے ٹیلہ بند میں بچے کا پیٹ پھاڑ کر گردے نکالے گئے اور کشمور میں چھوٹی بچی کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ زینب الرٹ بل کے بعد زیادتی کے واقعات میں کمی کی بجائے تسلسل کے ساتھ اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سب سے زیادہ غیر محفوظ بچے اور بچیاں ہیں۔ روزانہ گیارہ بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات ہوتے ہیں۔ غیر جانبدار اعداد و شمار کے مطابق یہ صرف چالیس فیصد واقعات ہیں جو رپورٹ ہوتے ہیں، ساٹھ فیصد واقعات کی ایف آئی آر ہی درج نہیں ہوتی۔ حکومت بچوں اور بچیوں پر رحم کرے اور انہیں سیکورٹی فراہم کرے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کے ساتھ زیادتی کرنے والے انسان نہیں درندے ہیں اور یہ کسی قسم کی ہمدردی کے مستحق نہیں۔ ان درندوں کو کسی قسم کے بشری حقوق حاصل نہیں ہیں، مجرموں کو اس قسم کے واقعات سے روکنے کا واحد حل سر عام پھانسی ہے لیکن حکومت کو بچوں کی بجائے قاتلوں سے ہمدردی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا اور سوشل میڈیا پر بے حیائی اور فحاشی کا سیلاب ہے جس سے نوجوان متاثر ہورہے ہیں اور نتیجتاً اس قسم کے واقعات رونما ہورہے ہیں۔ میڈیا اور سوشل میڈیا پر فلٹرز لگانے کی ضرورت ہے۔ میڈیا پر بے حیائی اور سوشل میڈیا پر فحش ویب سائٹس فوری طور پر بند کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی نظام کی بہتری اور اسے قرآن و حدیث کے مطابق بنانے کی ضرورت ہے۔ سکول، گھر اور محلہ میں تربیتی نظام بنانا چاہئے تاکہ بچوں اور نوجوان نسل کی اصلاح ہوسکے۔ انہوں نے متاثرہ بچی کے والد کو ہر قسم کے تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ اس سے پہلے واقعات پر بھی سینیٹ میں آواز اٹھائی ہے اور اس واقعے پر بھی سینیٹ سمیت ہر فورم پر بھر پور آواز اٹھاؤں گا۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: