عمرہ مناسک بحالی کے دوسرے مرحلے پر مسجد حرام میں ساڑھے پانچ لاکھ نمازیوں کی واپسی

0

مکہ مکرمہ الحرمین الشریفین کے انتظامی امور کے ذمہ دار ادارے کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ عمرہ مناسک کی بحالی کے دوسرے مرحلے پر 2 لاکھ 20 ہزار معتمرین کے استقبال کے ساتھ ساتھ مسجد حرام میں پانچ لاکھ 60 ہزار نمازیوں کو نماز ادا کرنے کی اجازت دی جائے گی۔ عمرہ کی ادائیگی کا دوسرا مرحلہ 14 دن تک جاری رہے گا۔ اس دوران الحرمین الشریفین میں آنے والے زائرئن اور اللہ کے مہمانوں کی صحت کی حفاظت کے لیے بھرپور اقدامات کئے گئے ہیں۔عرب ٹی وی کے مطابق جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ عمرہ کے دوسرے مرحلے کی بحالی کے بعد مسجد حرام میں 40 ہزار نمازی نماز ادا کر کریں گے جب کہ ایک دن میں 15 ہزار عازمین عمرہ کے مناسک ادا کریں گے۔ اس دوران روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر حاضری دینے والے زائرین کی تعداد بھی بڑھا دی جائے گی۔الحرمین الشریفین کی جنرل پریزیڈینسی نے نمازوں اور عمرہ کے مناسک کے حوالے سے مقرر کردہ اوقات کی سختی سے پابندی کی ضرورت پر زور دیا ۔ بیان میں کہا گیا کہ مسجد حرام میں نماز کے لیے آنے والے تمام نمازی کرونا کی وبا کے انسداد کے لیے نافذ کردہ ایس اوپیز پر عمل درآمد یقینی بنائیں، چہرے کو ماسک سے ڈھانپ کر رکھیں، ہاتھوں کو باقاعدگی کے ساتھ دھوئیں اور سینیٹائزر کا استعمال کریں۔ نمازوں اور عمرہ کے امور کے لیے مقرر کردہ انتظامیہ سے تعاون کریں۔ باہر سے کھانے پینے کی چیزیں لانے سے گریز کریں اور مسجد میں آمد ورفت کے اوقات کی پاسداری کریں۔اسی ضمن میں الحرمین پریزیڈینسی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالرحمان السدیس نے مسجد نبوی اور روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر حاضری کے لیے شیڈول جاری کیا ۔مسجد نبویۖ میں خواتین کو صبح اشراق سے ظہر کی اذان تک قیام کرنے اور عبادت کی اجازت ہے۔ اس دوران ایک دن میں 900 خواتین نمازی مسجد نبوی میں داخل ہو سکتی ہیں۔اسی طرح ایک دن میں 11 ہار 880 زائرین کو روضہ رسولۖ پر حاضری دینے اور آپ اور آپ کے صحابہ کرام پر درود و سلام بھیجنے کی اجازت ہو گی۔مسجد نبویۖ میں داخلے کے لیے باب السلام کو مردوں کے لیے مختص کیا گیا ہے جب کہ مرد حضرات باب بلال سے روضہ رسولۖ تک پہنچ سکتے ہیں۔ خواتین کے لیے باب عثمان باب 24 کو مختص کیا گیا ہے۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: