تونس میں ترکی کی مصنوعات کے بائیکاٹ کا مطالبہ شدت اختیار کر گیا

0

تونس میں سرکردہ سماجی اور سیاسی رہ نماوں نے بازاروں میں ترک مصنوعات کی اجارہ داری پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ترک مصنوعات کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق تونسی سماجی کارکنوں کا کہنا تھا کہ پورے ملک میں ترک مصنوعات کی اجارہ داری ہے اور مقامی کارخانہ داروں اور قومی معیشت کو شدید خسارے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔رواں ہفتے سوشل میڈیا پر ترکی کی مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہم شروع کی گئی تھی۔ اس مہم میں عوام میں ترک مصنوعات کے بارے میں شعور اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ مہم میں شہریوں سے کہا گیا کہ وہ ترک مصنوعات کا زیادہ سے زیادہ بائیکاٹ کریں تاکہ مقامی مصنوعات کو پذیرائی مل سکے۔ اس وقت تونسی مارکیٹیں اور بازار ترکی کی مصنوعات سے بھرے پڑے ہیں جس کے نتیجے میں مقامی مصنوعات کو آگے لانے کا موقع نہیں مل رہا ہے۔سماجی کارکنوں اور ترک مصنوعات کے بائیکاٹ کے حامیوں نے حکومت پربھی زور دیا کہ وہ ترک مصنوعات روکنے لیے موثر اقدامات کرے۔ بائیکاٹ مہم کے حامیوں کو توقع ہے کہ ان کی اس کوشش سے عوام میں ترک مصنوعات کے خلاف شعور بیدار ہوگا اور اس کے مثبت نتائج بھی سامنے آئیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست کو مقامی اور دیسی مصنوعات کی پشت پر کھڑا ہونا چاہیے اور مارکیٹ میں ترک مصنوعات کی جگہ مقامی مصنوعات کو لانا چاہییکیونکہ ہماری پہچان ہماری اپنی مصنوعات ہیں نہ کی ترکی کی مصنوعات ہماری پہنچان ہو سکتی ہیں۔سماجی و سیاسی کارکن عماد بن حلیمہ نے اس مہم کے حوالے سے کہا کہ آج ہم چیخ چیخ کر یہ مہم چلا رہے ہیں کہ کرونا وبا کی وجہ سے ہماری مقامی کمپنیاں بدترین مشکلات میں ہیں۔ ان کی مشکلات کا بہتر حل ان کی تیار کردہ مصنوعات کو بازاروں میں لانے اور انہیں عوامی پذایرائی کا موقع دینا ہے۔ تونس کے بازاروں میں ترک مصنوعات کی اجارہ داری ہے جس نے مقامی مصنوعات کو پیچھے دھکیل دیا ہے۔ناقدین کا کہنا تھا کہ تونس میں ترکی کی مصنوعات کو فروغ دینے میں اخوان المسلمون اور اس کے حامی ملوث ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ترکی سے آنے والی مصنوعات قانونی اور طبی طور پر بھی مشکوک ہیں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: