بین الاقوامی

شہزادہ ولیم کا ڈیانا انٹرویو معاملے کی تحقیقات کے فیصلے کا خیرمقدم

آنجہانی ڈیانا کا 1995 میں انٹرویو لینے کے لیے جعلی دستاویزات کیاستعمال کی تحقیقات کا اعلان کردیا گیا ہے، برطانوی شہزادہ ولیم نے تحقیقات کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق شہزادہ ولیم نے کہا کہ معاملے کی آزادانہ تحقیقات درست سمت کی جانب قدم ہے، اس سے انٹرویوکاسبب بننے والی سچائی سامنے آئیں گے۔انہوں نے کہا کہ واقعے کے بعد نشریاتی ادارے کے فیصلوں کی سچائی بھی سامنے آئے گی۔یاد رہے کہ لیڈی ڈیانا اور پرنس چارلز کی طلاق 1996 میں ہوئی تھی جب کہ اگلے ہی سال پیرس میں ان کی گاڑی کو حادثہ پیش آیا تھا جس میں وہ ہلاک ہو گئی تھیں۔خیال رہے کہ برطانوی نشریاتی ادارے کے مارٹن بشیر نے1995 میں شہزادی ڈیانا کا انٹرویو کیا تھا، انٹرویو میں ڈیانا نے اپنی شادی اور تخت کے وارث پر بات کی تھی۔انٹرویو میں گفتگو کے دوران ڈیانا نے پرنس چارلس کے کمیلا پارکر سے تعلقات کی طرف اشارہ کیا تھا۔انٹرویو کے بعد نشریاتی ادارے پر الزام ہے کہ ڈیانا کو بینک کی 2جعلی دستایزات دکھا کر انٹرویو کے لیے قائل کیا گیا۔برطانوی نشریاتی ادارے کے ڈائریکٹرجنرل ٹم ڈیوی کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے سابق جج کوتحقیقات کی ذمہ داری سونپی ہے، ادارہ معاملے کوبہت سنجیدگی سے لے رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم سچائی تک پہنچنا چاہتے ہیں، بھرپور آزادانہ تحقیقات کی تیاری کر رہے ہیں، سابق جج ڈائسن کو کارپوریٹ اسٹاف اور دستیاب ریکارڈ تک رسائی دی جائیگی۔ترجمان برطانوی نشریاتی ادارے کا کہنا تھا کہ بشیر کوویڈ کی وجہ سے پیچیدگیوں کا شکار ہیں، بشیر اتنے بیمار ہیں کہ الزامات کا جواب نہیں دے سکتے۔برطانوی میڈیا میں انٹرویو کے میزبان بشیر سے متعلق یہ دعوی سامنے آیا ہے کہ بشیر کو ایک پٹرول اسٹیشن پر اپنی قیمتی کار کو چارج کرتے ہوئے دیکھا گیا، بشیر بالکل تندرست، فٹ اور چلتے پھرتے نظر آئے۔
٭٭٭٭٭٭

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: