بین الاقوامی

امریکا نے چین پر نئی ویزا پابندیاں عائد کردیں

امریکا نے چین سے متعلق نئی ویزا پابندیاں متعارف کروادی ہیں جنھیں چینی وزارت خارجہ نے سیاسی دبائو اور سرد جنگ کی ذہنیت کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ امریکی خبر رساں ادارے کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ چین کی کمیونسٹ پارٹی کے تمام ارکان کو ویزے کے اجرا میں نئی پابندیاں متعارف کروا دی گئی ہیں۔نئے قوانین کے مطابق چین کی کمیونسٹ پارٹی کے ارکان اور ان کے اہل خانہ کو صرف امریکا کے سفر کے لیے زیادہ سے زیادہ ایک ماہ کا ویزا جاری کیا جائے گا جب کہ اس ویزا پر انہیں ایک ہی بار امریکا آنے کی اجازت ہوگی۔ اس سے قبل اس ویزے کی مدت دس برس تک تھی۔یادرہے کہ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے صدارت سے سبکدوش ہونے میں دو ماہ کا عرصہ رہ گیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تجارتی معاہدوں اور کورونا وائرس کے بعد چین سے متعلق انتہائی سخت گیر موقف اختیار کیا ہے جس کے بعد دنیا کی ان دوبڑی اقتصادی طاقت تسلیم کیے جانے والے ممالک کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہوچکے ہیں۔امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان نے الزام عائد کیا کہ چینی کمیونسٹ پارٹی امریکا میں چینی امریکی گروپوں کی سرگرمیوں اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے مختلف گروہوں کو دھمکانے اور ان کی جاسوسی کے لیے اپنے ایجنٹ بھیجتی۔ترجمان کا کہنا ہے کہ امریکا نے برسوں کمیونسٹ پارٹی کو امریکا میں اداروں اور کاروباری مواقع تک آزادانہ رسائی دی جب کہ چین میں امریکی شہریوں کے ساتھ کبھی یکساں سلوک نہیں رکھا گیا۔تاہم اس بیان میں ابھی تک یہ واضح نہیں کیا گیا ہے کہ اس پابندی کا اطلاق کس طرح کیا جائے گا کیوں کہ چین کی کمیونسٹ پارٹی کے 92 لاکھ ارکان ایسے ہیں جو براہ راست سیاسی و ریاستی امور سے تعلق نہیں رکھتے۔اس سے قبل امریکا ہیوسٹن میں چینی قونصل خانہ بند کرچکا ہے جس کے جواب میں چین نے بھی اپنے شہر شینجو میں امریکی قونصلیٹ خالی کروا لیا تھا۔ علاوہ ازیں امریکا کی جانب سے چین سے آنے والے طالب علموں پر بھی کئی پابندیاں متعارف کروائی جاچکی ہیں جب کہ امریکا زیر تعلیم سب سے زیادہ غیر ملکی طالب علم چین ہی سے تعلق رکھتے ہیں۔مبصرین کا کہنا ہے کہ چین کے ساتھ کشیدگی کی جو پالیسی صدر ٹرمپ نے شروع کی تھی امکان یہی ہے کہ وہ اپنا منصب چھوڑنے سے قبل چین کے خلاف سخت ترین اقدامات کرکے جائیں گے جس کی وجہ سے نومنتخب صدر کو مستقبل میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ امریکا کہ یہ اقدام اس کے اپنے مفادات کے خلاف ہے۔ ایسے اقدامات امریکا میں چین سے نفرت کرنے والے ایسے عناصر کی کارستانی ہے جو سرد جنگ کی ذہنیت رکھتے ہیں۔ یہ اقدام سیاسی دبائو ڈالنے کے لیے اٹھایا گیا قدم ہے۔
٭٭٭٭٭

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: